میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اپنے سے کسی کو حقیر جاننا تکبُّر کہلاتا ہے، تکبُّرایک تو خود حرام ہے مزید اس کی وجہ سے غیبت کا گناہ بھی سر زد ہوتا ہے۔ مغرور آدمی جس کو حقیر جانتا ہے اُس کی ہنسی اُڑاتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ پارہ 26 سورۃُ الحُجُرات آیت نمبر 11میں فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسْخَرْ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوْمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنْہُنَّ ۚ
ترجَمہ کنزالایمان :اے ایمان والو!نہ مرد مردوں سے ہنسیں،عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہترہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے، دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں۔
حضرتِ سیِّدُنا اِمام احمدبن حَجَرمَکِّی شَافِعِی علیہ ر حمۃ اللہِ القوی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:''سُخْرِیَہ ''سے مُراد یہ ہے کہ جس کی ہنسی اڑائی جائے، اُس کی طرف حَقارت سے دیکھنا۔ اس حکمِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کامقصد یہ ہے کہ کسی کو حقیر نہ سمجھو، ہو سکتا ہے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک تم سے بہتر، افضل اور زیادہ مقرَّب ہو۔چُنانچِہ سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمار، بِاِذنِ پروردگاردوعالم کے مالِک ومختارعَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ خوشبودار ہے: ''کتنے ہی پریشان حال،پَراگندہ بالوں اور پھٹے پرانے کپڑوں والے ایسے ہیں کہ جن کی کوئی پرواہ نہیں کرتا لیکن اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ پر کسی بات کی قسم کھا لیں تو وہ ضَرور اسے پورا فرما دے۔''
(سُنَنِ تِرمِذی ج۵ ص۴۵۹ حدیث۳۸۸۰)
ابلیسِ لعین نے حضرتِ سیِّدُنا آدم
صَفِیُّ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
کو حقیر جانا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خَسارے (یعنی نقصان )میں مبتَلا کر دیا اور حضرتِ سیِّدُنا آدم
صَفِیُّ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
ہمیشہ کی عزّت کے ساتھ کامیاب ہو گئے،ان