چارے غریب و تنگدست تھے مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ انہوں نے اس بات کا مجھے ذرا بھی اِحساس نہیں ہونے دیا اور نہ ہی کسی قسم کی مالی امداد کیلئے سُوال کیا۔ میں اور زِیادہ مُتَأَثِّر ہوا کہ مَا شَآ ءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول کتنا پیارا ہے اور اس کے وابَستگان کس قَدَرسادہ اور خوددار ہیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کی مَحَبَّت میرے دل میں گھر کرتی چلی گئی حتّٰی کہ میں نے عاشِقانِ رسول کے ہمراہ 8دن کے مَدَنی قافِلے میں سفر کیا۔میرے دل کی دنیا زَیرو زَبَر ہو گئی، قَلْب میں مَدَنی انقِلاب برپا ہو گیا اور میں نے گناھوں سے سچّی توبہ کر کے اپنی ذات کو دعوتِ اسلامی کے حوالے کر دیا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھ پر وہ مَدَنی رنگ چڑھا کہ آج کل میں عَلاقائی مُشاوَرَت کے خادِم( نگران) کی حیثیَّت سے اپنے عَلاقے میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کی دھومیں مچا رہا ہوں ۔
(فیضانِ سنّت، باب آدابِ طعام، ج۱،ص۲۲۴)