Brailvi Books

غافل درزی
27 - 34
کہ 2002ء کی بات ہے میں بُرے دوستوں کی صُحبت کے باعِث غنڈہ گَینگ میں شامِل ہوگیا ۔لوگوں کو مارنا پیٹنا اور گالیاں بکنا میرا معمول تھا، جان بوجھ کر جھگڑے مول لیتا،جو نیا فیشن آتا سب سے پہلے میں اپناتا ،دن میں کئی بار کپڑے تبدیل کرتا سِوائے جینز( jeans)کے دوسری پینٹ نہ پہنتا، آوارہ دوستوں کے ساتھ گھوم پھر کر رات گئے گھر لوٹتا اور دن چڑھے تک سوتا رہتا ۔والِد صاحِب کا انتِقال ہوچکا تھا، بیوہ ماں سمجھاتی تو مَعاذَ اللہ (عَزَّوَجَلَّ) زَبان درازی کرتاتھا۔ ایک مرتبہ دعوتِ اسلامی کے کسی باعمامہ اسلامی بھائی نے ملاقات پر ایک رِسالہ ''جناّت کا بادشاہ''( مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) تحفے میں دیا، پڑھا تواچّھا لگا۔ رَمضانُ المبارَک میں ایک دن کسی مسجِد میں جانے کی سعادت ملی تو اتِّفاق سے ایک سبز سبز عمامے اور سفید لباس میں ملبوس سنجیدہ نوجوان پر نظر پڑی معلوم ہوا یہ یہاں مُعْتَکِف ہیں۔ اُنہوں نے درسِ فیضانِ سنت دیا تو میں بیٹھ گیا۔بعدِ درس اُنہوں نے مجھ پر اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرَکتیں بتائیں ۔ 

    ان اسلامی بھائی کا لباس اس قَدَرسادہ تھا کہ بعض جگہ پیوندتک لگے ہوئے تھے، جب اُن کیلئے گھر سے کھانا آیا تو وہ بھی باِلکل سادہ تھا! میں ان کی سادَگی سے بَہُت زیادہ مُتَأَثِّرہُوا مجھے ان سے مَحَبَّت ہوگئی، میں ان سے ملاقات کیلئے آنے جانے لگا ۔ اِتِّفاق سے عیدُ الفِطرکے بعد ان اسلامی بھائی کا نِکاح تھا۔ یہ بے