پاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وا ٰلہٖ وسلَّم کی شان میں نعت شریف پڑھنی شروع کر دی، مجھے اُس کا انداز بے حد بھلا لگا، میری دلچسپی دیکھ کر ان میں سے ایک نے مجھ سے گُفتُگُو شُروع کر دی وہ تاڑ گیا کہ میں مسلمان نہیں ہوں، اُس نے مسکراتے ہوئے بڑے دلنشین انداز میں مجھ سے کہا ، میں آپ کو اسلام قَبول کرنے کی درخواست کرتا ہوں، رسالہ اِحتِرام مُسلم پڑھ کر میں چونکہ پہلے ہی دلی طور پر اسلام کا گِرویدہ ہو چکا تھا۔ اس کے عاجِزانہ انداز نے دل پر مزید اثر ڈالا ، مجھ سے انکار نہ بن پڑا، الحمدُ للہ عَزَّوّجَلَّ میں نے سچّے دل سے اسلام قَبول کر لیا۔ اَلحمدُ لِلّٰہ عَزَّوّجَلَّ یہ بیان دیتے وَقت مسلمان ہوئے مجھے چار ماہ ہو چکے ہیں، میں پابندی سے نَماز پڑھ رہا ہوں ، داڑھی سجانے کی نیَّت کر لی ہے، دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہو کر مَدَنی قافِلوں میں سفر کی سعادت بھی پارہا ہوں۔