Brailvi Books

غافل درزی
22 - 34
یہاں تک کہ اسکی ہچکیاں بندھ گئیں ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں نے اور بہن نے اسی وقت توبہ کی اور نماز پڑھنے کی نیّت کرلی۔ شام کوجب میرے دوست حسبِ معمول سینما جانے کیلئے بلانے آئے۔ تو میں نے معذرت کرلی میرے دوست حیران تھے مگر میں نے ان سے زیادہ گفتگو نہیں کی۔ 

    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ چند دنوں کے بعد یہی رسالہ والدِ محترم اور والدہ محترمہ کو بھی سنایاتو وہ بھی بے حد متاثر ہوئے اورباہمی مشورے سے آئندہ گھر میں T.Vنہ چلانے کا عہد کرلیا۔ جب جمعرات کا دن آیا تو میں نے گھر والوں سے کہا کہ میں دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں جانا چاہتا ہوں۔ یہ سن کر والدہ محترمہ نے جو کہ امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کارسالہ پڑھ کر متاثر توہوئی تھیں مگر اجتماع میں جانے کی اجازت دینے سے یہ کہتے ہوئے انکارکردیا کہ صرف نمازپڑھو یہی کافی ہے، کسی اجتماع وغیرہ میں جانے کی کوئی ضَرورت نہیں ہے۔ میں نے ضد کی تووالد صاحب نے والدہ سے فرمایا :'' ارے جانے دو،ان کے ماموں بھی کہتے رہتے ہیں،وہ بھی خوش ہوجائیں گے۔'' میں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے والدمحترم کو بھی اپنے ساتھ اجتماع میں چلنے کی دعوت پیش کر دی کہ ابو آپ بھی چلیں۔ بہن بھی میرا ساتھ دینے لگی،ابو کچھ تردُّدکے بعد بالآخر چلنے کیلئے تیار ہوگئے۔

     اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ پہلے ہی ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی بَرَکت سے میری زندگی میں مدنی انقلاب برپا ہوگیا ۔مجھے آج تک یاد ہے کہ اجتماع میں مبلغِ دعوتِ اسلامی نے جنت کے موضوع پر بیان کیا تھا۔میں نے والدصاحب