میرے نصیب کچھ یوں جاگے ۔۔۔۔۔۔
1994 کی بات ہے، غالباً شَعبانُ المُعَظَّم کا مہینہ تھا، میں اس وقت کالج میں پڑھتا تھا۔ہمارے رشتے کے ماموں جوبدعقیدگی سے توبہ کرکے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کو اپنا چکے تھے اور امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کے ذریعے سلسلہ عالیہ قادِریہ رَضَویہ میں داخل ہو کر ''عطاری'' بھی بن چکے تھے۔ سارادن سبز عمامہ شریف کا تاج سجائے رکھتے تھے ۔ایک دن بروز جمعۃ المبارک صبح کے وقت گھر پر تشریف لائے اور رخصت ہوتے وقت مجھے شہیدانِ کربلا رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے متعلق امیرِ اَہلسنّتدامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کا رسالہ تحفہ میں دیا ۔ میں نے یہ سوچ کر لے لیا کہ ان کے جانے کے بعد کہیں رکھ چھوڑوں گا۔ مگر جب سرورق پر رسالے کا نام دیکھا تو اپنائیت سی محسوس ہوئی ۔چنانچہ میں نے رسالہ پڑھنا شروع لر دیا۔ اَہلِ بیتِ کرام علیہم الرضوان سے والہانہ عقیدت کا اظہاراتنے مہذب اور باادب انداز میں پہلی بار پڑھ رہا تھا۔ انداز ِتحریر اتنا پُرسوزو پُر تاثیر تھا کہ مجھ پر رقّت طاری ہوگئی اور میں کربلا والوں پر ہونے والے مظالم کو یاد کرکے رونے لگا۔واقعہ کربلا کے ضمن میں امیرِ اَہلسنّتدامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ نے جن اصلاحی مَدَنی پھولوں سے نوازاتھا انہوں نے تومیرے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔شہدائے کربلا سے متعلق بیانات تو بارہا سنے اور پڑھے تھے مگر ''درسِ واقعہ کربلا'' آج پہلی بار سمجھ میں آیا تھا۔پھررسالہ کے آخر میں دئیے گئے ''خونخوارچھپکلی'' والے واقعہ کو پڑھ کر تومیں کانپ ہی اٹھا۔ میری عجیب کیفیت ہورہی تھی ۔ میں نے بہن کو قریب بلایا اور اسے پڑھ کر سنانے لگا۔ رسالہ سن کروہ رونے لگی