صوبہ یو-پی-کانپور(ہند) کے مقیم 22سالہ اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میں کم عمری ہی سے بُرے ماحول کی نُحوست کے باعث بُری عادتوں کا شکار ہوچکا تھا۔جواکھیلنا، چوری کرنامیری عادت اور فلمیں دیکھنا، گانے باجے سننا میرا شوق تھا ، ماں باپ کاانتہائی نافرمان تھا ،( معا ذ اللہ عزوجل)ان کو کسی خاطر میں نہیں لاتا تھا۔
ایک روزکسی کام سے قریبی شہر جانا ہوا تو ایک اسلامی بھائی نے امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کارسالہ'' برے خاتمے کے اسباب'' تحفے میں دیا۔ رات سونے سے پہلے پڑھنا شروع کیا تو دل میں انجامِ گناہ کا خوف اور بُری موت کا ڈر محسوس ہوا۔ اسی بارے میں سوچتے سوچتے نہ جانے کب میں سوگیا ۔ میں جو پوری زندگی سوتے جاگتے میں بُرے خیالات کے باعث گندے خواب دیکھا کرتا تھا ، مگر آج جب میری آنکھ لگی تو میری سوئی ہوئی قسمت انگڑ ائی لے کرجاگ اُٹھی۔میں نے اپنے آپ کو مدینے شریف میں پایا،میں نے سبز سبز گنبد کی زیارت کی جس نے مجھ پر رقت طاری کردی۔ جب آنکھ کھلی اس وقت بھی میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور میرے قلب میں انقلاب بَرپا ہو چکا تھا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یہ بیان دیتے وقت میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوچکا ہوں، میری ساری بُری عادتیں چھوٹ چکی ہیں اور میں نے چہرے پر سنت کے مطابق داڑھی شریف سجانے کے ساتھ ساتھ دیگر سنتوں پربھی عمل شروع کردیا ہے ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ سارا دن سر پر عمامہ شریف سجا رہتا ہے۔ عاشقانِ رسول کے ہمراہ مَدَنی قافلوں میں