پھر ایک دن کسی اسلامی بھائی نے امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کے رسائل '' احترامِ مسلم ''اور'' باحیا نوجوان'' تحفے میں دئيے۔ میں نے جب بالخصوص رسالہ''باحیا نوجوان'' پڑھا تو کانپ اٹھا۔اس میں امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ نے نگاہوں کی حفاظت اور حیا سے متعلق مَدَنی پھول اور ترغیبی نِکات بڑی حکمتوں کے ساتھ پیش فرمائے تھے۔اس رسالے کو پڑھ کر نگاہ کی حفاظت کی ایسی سوچ ملی کہ آج کم و بیش 3سال کا عرصہ ہوچکا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ نگاہیں جھکائے رکھنے کی کچھ ایسی عادت پڑگئی ہے کہ اب مشکل پیش نہیں آتی بلکہ سُکون رہتا ہے۔ ایک بار عجیب چٹکلہ ہوا کہ میں'' مجلسِ مکتوبات و تعویذاتِ عطاریہ'' کے بستے پر تعویذاتِ عطاریہ لینے کی غرض سے پہنچا تو میری نظریں جھکانے کے انداز سے وہ غلط فہمی کے باعث مجھے نابینا سمجھ بیٹھے ۔میں نے ان کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے بتایا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں دیکھ سکتا ہوں۔مگر میں اپنے پیرو مرشِدشَیخِ طریقت ، امیرِ اَہلسنّتدامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی توجہ کی بَرَکت سے نگاہیں جھکا کر رکھنے والی سنت پر عمل پیرا ہوں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اُن کے علاقے کے ایک اسلامی بھائی کا کہنا ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ان پر مرشِد کی ایسی توجہ ہے کہ لگتا ہے ان کی گردن کسی نے پکڑ کر جھکا رکھی ہو۔ لوگ ان کے اس طرح ہردم نظر جھکائے رکھنے پر حیران ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ اِستقامت عطا فرمائے۔آپ بھی رسالہ ''باحیا نوجوان ''پڑھئے اور اس کی برکات کا کھلی آنکھوں سے نظارہ کیجئے ۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو