دن پہلے والا دن جب آئے تو وہ ساتواں ہوگا ،مَثَلاً جُمُعہ کو پیدا ہوا تو (زندگی کی ہر ) جُمعرات(اُس کا) ساتواں دن ہے ۔( بہارِ شریعت ج۳ص۳۵۶)اگرولادت کا دن یاد نہ ہو تو جب چاہیں کر لیجئے خبچّے کا سر مونڈنے کے بعد سر پر زعفران پیس کر لگا دینا بہتر ہے(ایضاً ۳۵۷)خ بہتر یہ ہے کہ عقیقے کے جانور کی ہڈّی نہ توڑی جائے بلکہ ہڈّیوں پر سے گوشت اُتار لیا جائے یہ بچّے کی سلامتی کی نیک فال ہے اور ہڈّی توڑ کر گوشت بنایا جائے اِس میں بھی حَرَج نہیں۔ گوشت کو جس طرح چاہیں پکا سکتے ہیں مگر میٹھا پکایا جائے تو بچّے کے اَخلاق اچّھے ہونے کی فال ہے۔(ایضاً ) میٹھا گوشت بنانے کے دو طریقے : {۱} ایک کلو گوشت ، آدھا کلو میٹھا دَہی،سات دانے چھوٹی الائچی، 50گرام بادام ، حسبِ ضَرورت گھی یا تیل سب ملا کر پکا لیجئے، پکنے کے بعد ضَرورت کے مطابِق چاشنی ڈالئے ۔ زینت(یعنی خوبصورتی) کیلئے گاجر کے باریک ریشے بنا کر نیز کشمش وغیرہ بھی ڈالے جاسکتے ہیں {۲} ایک کلو گوشْتْ میں آدھا کلو چقَندر ڈال کر حسبِ معمول پکا لیجئے خعوام میں یہ بَہُت مشہور ہے کہ عقیقے کا گوشْتْ بچّے کے ماں باپ اور دادا دادی، نانا نانی نہ کھائیں یہ مَحض غَلَط ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں (ایضاً ) خ اس کی کھال کا وُہی حکم ہے جو قربانی کی کھال کا ہے کہ اپنے صَرْف میں لائے یا مساکین کو دے یا کسی اور نیک کام مسجد یا مدرَسے میں صَرْف کرے (ایضاً)خعقیقے کا جانور اُنھیں شرائط کے ساتھ ہونا چاہیے جیسا قربانی کے لیے ہوتا ہے۔ اُس کا گوشت فُقَرا اور عزیز و قریب دوست و اَحباب کو کچّا تقسیم کر دیا جائے یا پکا کر دیا جائے یا اُن کو بطورِ ضِیافت و دعوت کِھلایا جائے یہ سب صورَتیں جائز ہیں ( بہارِ شریعت