بکریاں اور لڑکی میں بکرا کیا جب بھی حَرَج نہیں (ایضاً ص ۳۵۷)خ (بیٹے کیلئے دو کی) اِستِطاعت (یعنی طاقت) نہ ہو تو ایک بھی کافی ہے (فتاویٰ رضویہ ج۲۰ ص۵۸۶)خ قربانی کے اُونٹ وغیرہ میں عقیقے کی شرکت ہوسکتی ہیخ عقیقہ فرض یا واجب نہیں ہے صرف سنّتِ مستحبَّہ (مُس۔ تَ ۔حَب۔بَہ) ہے،(اگر گنجائش ہو تو ضرور کرناچاہئے، نہ کرے تو گناہ نہیں البتّہ عقیقے کے ثواب سے محرومی ہے) غریب آدمی کو ہر گز جائز نہیں کہ سُودی قرضہ لے کرعَقیقہ کرے ( اسلامی زندگی ص۲۷) خبچّہ اگر ساتویں دن سے پہلے ہی مرگیا تو اُس کا عقیقہ نہ کرنے سے کوئی اثر اُس کی شَفاعت وغیرہ پرنہیں کہ وہ وقتِ عَقیقہ آنے سے پہلے ہی گزر گیا۔ ہاں جس بچّے نے عقیقے کا وَقت پایا یعنی سات دن کا ہوگیا او ربِلا عُذر باوَصف ِ استِطاعت (یعنی طاقت ہونے کے باوُجُود) اُس کا عقیقہ نہ کیا اُس کے لیے یہ آیا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کی شَفاعت نہ کرنے پائے گا(فتاوٰی رضویہ ج۲۰ص ۵۹۶)خعقیقہ ولادت کے ساتویں روز سنّت ہے اوریِہی افضل ہے،ورنہچودھویں ،ورنہ اکّیسویں دن۔(ایضاً ص ۵۸۶) اورخ اگر ساتویں دن نہ کرسکیں تو جب چاہیں کرسکتے ہیں ، سنّت ادا ہوجائے گی ( بہارِ شریعت ج۳ص۳۵۶ ) خجس کا عقیقہ نہ ہوا ہو وہ جوانی، بُڑھاپے میں بھی اپنا عقیقہ کرسکتا ہے (فتاوٰی رضویہ ج۲۰ص ۵۸۸) جیسا کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اعلانِ نُبُوَّت کے بعد خود اپنا عقیقہ کیا (مُصَنَّف عبد الرزاق ج ۴ ص۲۵۴ حدیث ۲۱۷۴)خبعض (عُلمائے کرام)نے یہ کہا کہ ساتویں یا چودہویں یا اکّیسویں دن یعنی سات دن کا لحاظ رکھا جائے یہ بہتر ہے اور یاد نہ رہے تو یہ کرے کہ جس دن بچّہ پیدا ہو اُس دن کو یاد رکھیں اُس سے ایک