اِحسان عطاّری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی کی قَبْر پر فاتحہ کے لیے آئے تو یہ منظر دیکھ کر اُن کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ قبر کی ایک جانب بَہُت بڑاشِگاف ہوگیا ہے اور تقریباً ساڑھے تین سال قبل وفات پانے والے مرحوم محمد اِحسان عطّاری سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سجائے خوشبو دار کفن اَوڑھے مزے سے لیٹے ہوئے ہیں۔ آناً فاناً یہ خبر ہر طرف پھیل گئی اور ر ات گئے تک لوگ محمد اِحسان عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی کے کفن میں لپٹے ہوئے ترو تازہ لاشے کی زیارت کرتے رہے ۔تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک،دعوتِ اسلامی کے بارے میں غَلَط فَہمیوں کا شکار رہنے والے بعض اَفراد بھی دعوتِ اسلامی والوں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس عظیم فضل و کرم کا کُھلی آنکھوں سے مُشاہَدہ کرکے تَحسین و آفرین پکار اُٹھے اور دعوتِ اسلامی کے مُحِب بن گئے۔
جو اپنی زندَگی میں سنّتیں اُن کی سجاتے ہیں
خدا و مصطَفٰی اپنا انہیں پیا را بناتے ہیں
شھید دعوت اسلامی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ کوئی نیا واقِعہ نہیں شاید آپ کویاد ہوگا کہ 25 رَجَبُ المُرَجَّب ۱۴۱۶ ھ کو مرکزُ الاولیاء لاہور میں سنّتوں کے ادنیٰ خادِم سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُکی جان لینے کی کوشِش کے نتیجے میں دعوتِ اسلامی کے دو مبلّغین حاجی اُحُدرضا عطّاری اور محمد سجّادعطّاری رَحِمَھُمَا اللہُ الباری شہید ہوئے تھے ۔تقریباً آٹھ ماہ کے بعد