زکوٰۃ کو جُرمانہ سمجھا جائے اور(۴) آدمی اپنی بیوی کی اطاعت کرے اور (۵) ماں کی نافرمانی کر ے اور(۶) دوست کے ساتھ بھلائی کرے اور(۷) باپ کے ساتھ بے وفائی کرے اور(۸)مساجِد میں آوازيں بُلند کی جائیں(یعنی مسجدوں میں دنیاوی باتوں کاشور،لڑائیاں جھگڑے ہونے لگیں ۔نعت خوانی ،ذکر اللہ کی مجلسیں ، میلاد شریف ،ذکر کے حلقے تو حضور (علیہ السلام) کے زمانہ ہی میں بھی مسجدوں میں ہوتے تھے۔(مراۃ المناجیح ج۷ص ۲۶۳،ضیاء القرآن )) اور (۹) سب سے رَذیل( یعنی کمینہ ترین) شخص کو قوم کا سردار بنالیا جائے اور(۱۰) کسی شخص کے شَر سے بچنے کیلئے اُس کی عزت کی جائے اور (۱۱) شرابیں پی جائیں اور(۱۲) ریشم پہنا جائے اور (۱۳) گانے والیوں اور(۱۴)آلاتِ مُوسیقی کو رکھا جائے اور (۱۵) اِس امّت کے بعد والے پہلوں کو بُرا کہیں ،اُس وقت لوگوں کو سُرخ آندھیوں یا زلزلوں یا زمین میں دھنسنے یا چہروں کے مسخ یا پتھر برسنے کا انتظار کرنا چاہیے ۔