Brailvi Books

گانوں کے35 کفریہ اشعار
31 - 32
داڑھی ، زلفوں ، عمامے اور سنّتوں بھرے لباس سے بھی آراستہ ہو گیا مگر اُس نے اپنے اُس کفر سے توبہ و تجدیدِ ایمان نہ کیا تو بدستور مُرتد ہے، توبہ و تجدیدِ ایمان سے پہلے جو بھی نیک عمل کیا وہ مقبول نہیں،بیعت کی تونہ ہوئی، یہاں تک کہ اگر نِکاح بھی کیا تو نہ ہوا۔چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 11صَفْحَہ153 پر فرماتے ہیں:''مَعاذَاللہ اگر مرد یا عورت نے پیش از نکاح( یعنی نکاح سے قبل) کُفرِصریح کا ارتِکاب کیا تھا اور بے توبہ و( نئے سرے سے قبولِ) اسلام اُن کا نِکاح کیا گیا تو قَطعاً نکاح باطِل ، اور اس سے جو اولاد ہوگی وَلَدُالزِّنا، اسی طرح اگر بعدِ نکاح اُن میں کوئی مَعاذَاللہ مُرتد ہو گیا اور اس کے بعد کے جِماع سے اولاد ہوئی تو وُہ بھی حرامی ہوگی۔''لہٰذا کسی نے اِرتدِاد کے بعد اگر نِکاح کیا ہو اورنِکاح کے بعد اگر چِہ توبہ و تجدید ِ ایمان کر چکا ہو توبھی اب نئے سِرے سے نِکاح کرنا ہوگا ۔ اِس کیلئے دھوم دھام شرط نہیں، گھر کی چار دیواری میں بھی نکاح