عرض کرتا ہوں ، دیکھئے ! توبہ دل کی تصدیق کے ساتھ ہونی ضَروری ہے صِرف زَبانی توبہ کافی نہیں۔مَثَلاًکسی ایک نے کفر بک دیا اُس کودوسرے نے اس طرح توبہ کروادی کہ اُس کو معلوم تک نہیں ہوا کہ میں نے فُلاں کفر کیا ہے جس سے میں اب توبہ کر رہا ہوں ۔ اس طرح توبہ نہیں ہوسکتی۔ بَہَرحال جس کفر سے توبہ مقصودہے وہ اُسی وقت مقبول ہوگی جبکہ وہ اس کفر کو کفر تسلیم کرتا ہو، دل میں اُس کفر سے نفرت و بیزاری بھی ہو۔ جو کفر سرزد ہوا توبہ میں اُس کا تذکِرہ بھی ہو۔مَثَلًا گانے کے اِس کفریہ مصرعے '' خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانے '' سے توبہ کرنا چاہتاہے تو اس طرح کہے:یااللہ عَزَّوَجَلَّ میں نے یہ کفر بک دیا کہ '' خدا بھی نہ جانے'' ميں اس سے بیزار ہوں اوراس کفر سے توبہ کرتا ہوں ۔