Brailvi Books

گانوں کے35 کفریہ اشعار
23 - 32
(۲۶)  جوبھرتا نہیں وہ زخم دیاہے مجھ کو،نہیں پیار کو بدنام تو نے کیا ہے

        جسے میں نے پُوجا مَسیحا بنا کر،نہ تھا یہ پتا  پتّھروں کا بنا ہے
اِس شعر میں اپنے مَجازی محبوب کو پوجنے یعنی اُس کی عبادت کرنے کا اقرار ہے اور شاعر اس کفر کا اقرار کر رہا ہے اورکفر کا اقرار بھی کفر ہے۔ اگرمذاقاًہو تب بھی یہی حکم ہے۔ صدرُ الشَّریعہ ،بدرُ الطَّریقہ ،علامہ مولیٰنا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:جو بطورِ تَمَسْخُر او ر ٹَھٹّھا ( یعنی مذاق مسخری میں)کفر کریگا وہ بھی مُرتَد ہے اگر چِہ کہتا ہے کہ (میں) ایسا اعتِقاد(یعنی عقیدہ ) نہیں رکھتا ۔
         (بہارِ شریعت حصہ ۹ ص ۱۶۳،دُرِّمُختَار ج۶ ص۳۴۳ )
(۲۷) رکھوں گا تمہیں دھڑکنوں میں بسا کے

تمہیں چاہَتوں کا خدا میں بنا کے
بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ وَحدہ، لاشریک ہے ۔بیان کردہ شعر میں بندے کو ''چاہتوں کا خدا''مانا گیا ہے جو کہ کُھلا،کفر و شرک ہے۔
(۲۸)  تم سا کوئی دوسرا اس زمیں پہ ہوا تو رب سے شکایت ہوگی

       تمہاری طرف رُخ غیر کا ہوا تو قِیامت سے پہلے قِیامت ہوگی
Flag Counter