Brailvi Books

گانوں کے35 کفریہ اشعار
22 - 32
اِس شعرکے اِس حصّے ایمان لے لے یارب میں ایمان چلے جانے یعنی کافر ہوجانے پر راضی ہونا پایا جارہا ہے جوکہ کفر ہے۔''فتاوٰی تاتارخانیہ'' میں ہے:''جو اپنے کفر پر راضی ہوا تحقیق اُس نے کفر کیا۔ (فتاوٰی تاتارخانیہ ، ج ۵ص ۴۶۰)
(۲۵)  جب سے ترے نَیناں مِرے نَینوں سے لاگے رے

          تب سے دیوانہ ہوا سب سے بیگانہ ہوا

              رب بھی دیوانہ لاگے رے
اِس شعر کے اِس حصّے رب بھی دیوانہ لاگے رے میں شاعِرِ بے بَصائر کے دعوے کے مطابق اس کو خداوندِ قُدّوسعَزَّوَجَلَّ مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّدیوانہ لگ رہا ہے یقیناً یہ اُسعَزَّوَجَلَّ کی شانِ عالی میں کُھلی گالی اور کُھلاکُھلا کُفروارتداد ہے ۔ فتاوٰی تاتارخانیہ میں ہے:''جو اللہ کو ایسے وَصف(یعنی پہچان یا خاصیَّت) سے موصوف کرے جو اُس کی شان کے لائِق نہیں یا اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے کسی نام کایا اس کے احکام میں سے کسی حکم کا مذاق اُڑائے یا اس کے وعدے یاوَعید کا انکار کرے تو ایسے آدمی کی تکفیر کی جائے گی یعنی اُس کو کافر قرار دیا جائے گا۔
                    (فتاوٰی تاتارخانیہ ، ج ۵ص ۴۶۱)
Flag Counter