| گانوں کے35 کفریہ اشعار |
اِس شعر میں اللہ تبارَک وَ تعالیٰ پر اِعتِراض کا پہلو نُمایاں ہے اِس لئےکُفر کا حکم ہے۔اور اگر شاعر یا جو پڑھے اُس کی مُراد اللہ عَزَّوَجَلَّ پر اعتِراض ہو تو صریح کُفر ہے اور وہ کافِر و مُرتَد ہو جائیگا۔
(۲۲) دُکھ کوہے گلے لگایا، ہرمشکل میں ساتھ نبھایا ان کی کیا تعریف کروں میں، فرصت سے ہے رب نے بنایا
اِس شعر میں فرصت سے ہے رب نے بنایا کے الفاظ کفریہ ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے لئے'' فُرصت'' کا لفْظ بولنا کُفْر ہے ۔
(۲۳) اے خُدا بہتر ہے یہ کہ تُوچُھپا پردے میں ہے بیچ ڈالیں گے تجھے یہ لوگ اِسی چکّر میں ہیں
اس شِعْر میں ربُّ العٰلَمِین جَلَّ جلا لہ، کو مجبورو بے بس اور دھوکہ کھا جانے والا کہا گیا ہے جوکہ اللہُ ربُّ العٰلَمِین کی کھلی توہین ہے۔اور اللہُ المبین کی توہین کفر ہے۔
(۲۴)اب یہ جان لے لے یارب،یا ایمان لے لے یا رب دوجہان لے لے یارب،یا خدا!فَنافَنا یہ دل ہوا فَنا