اس شعر میں مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ کئی کفریات ہیں(۱)جب د یکھتا ہو گا اِس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر وَقت نہیں دیکھتا (۲) اِس بے حیا کے محبوب کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نہیں بنایامَعاذَاللہ اُس کا کوئی اور خالق ہے(۳) کس نے بنایا یہ بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کو نہیں معلوم (۴) سوچتاہو گا (۵) خدا عَزَّوجَلَّ آسمان سے دیکھتا ہوگا حالانکہ اللہ تعالیٰ مکان اور سَمت سے پاک ہے ۔ بہر حال یہ شعر کفریات کا مَلغُوبہ ہے اِس میں ربُّ العزّت عَزَّوَجَلَّ کی طرف جہالت اور محتاجی کی نسبت ہے کسی اور کو خالق ماننا ہے اللہُ ربُّ العزَّت عَزَّوَجَلَّ کی خالِقِیَّت کا انکار ہے، وہ ہر وقت ہر لمحہ ہر شے کو ملاحَظہ فرما رہا ہے ۔ شعر میں ان