فون میں بھی مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ اکثر میوزیکل ٹیون ہوتی ہے اور یہ ناجائز ہے۔جس کے فون میں میوزیکل ٹیون ہو اُس کیلئے ضروری ہے کہ ابھی اور اِسی وقت توبہ بھی کرے اور ہاتھوں ہاتھ اپنی اِس منحوس ٹیون کوہمیشہ کیلئے ختم کردے۔ ورنہ جب جب یہ میوزیکل ٹیون بجے گی خود بھی سننے کی آفت میں پڑے گا اور دوسرا مسلمان بھی اگر سننے سے بچنے کی کوشش نہیں کریگا تو پھنسے گا۔
واقِعی حالات ناگُفتہ بہ ہیں جو لوگ حُسّاس ہوتے ہیں ان کیلئے موسیقی کے معاملہ میں سخت امتحان کا دَور ہے ۔میں ایک اسلامی بھائی کو جانتا ہوں جس کا مکان بازار کے ساتھ ہونے کے سبب وقتاً فوقتاً موسیقی کے ساتھ گانوں کی آوازيں آتی رہتی ہیں ،بے چارہ کبھی اِس کمرہ میں پناہ لیتا ہے تو کبھی اُس کمرہ میں، پھر بھی آواز آتی ہے تو دروازے کِھڑکیاں بند کرکے بچنے کی سعی کرتا ہے۔ایسوں کا مذاق اڑانے کے بجائے ہر ایک مسلمان کو مُوسیقی کی آواز سے بچنے کی بھر پور کوشش کرکے اپنی آخِرت کیلئے بھلائی کا سامان کرنا چاہئے۔موسیقی کی آواز سے بچنے کیلئے ہیڈ فون بھی کار آمد ہے، ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ضَرورتاً