خان گیاتومیرا گزر ''نیم والی'' سے ہواجہاں میں نے دیکھا کہ دینی کتب و کیسٹوں کابستہ (یعنی اسٹال) لگا ہوا ہے ،میں اسٹا ل کے قریب گیا تو میری نظر ایک کیسٹ پر پڑی جس کا عنوان تھا''راہ تبلیغ کے پر سوز واقعات''،موضوع میرے مزاج کے مطابق تھا ۔چنانچہ میں نے یہ کیسٹ ہدیۃً لے لی اور گھر جاکر جب رات کو سنناشروع کی توامیرِ اہلسنّتدَامت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کے بیان کردہ دردبھرے پرسوزواقعات نے میرے دل کی دنیاکوتبدیل کرکے رکھ دیا۔ دوسرے دن میں پھر ڈیرہ اسمٰعیل خان گیا اور اسی بستے (یعنی اسٹال) سے امیر اہلسنت دَامت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کے رسائل حاصل کیے،جنہیں پڑھ کرمیں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ہونے والے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کرناشروع کردی ۔دعوتِ اسلامی سے اس قدرمحبت ہوچکی تھی میں بین الاقوامی سنتوں بھرے اجتماع میں اکیلا ہی طویل سفر کر کے باب المدینہ کراچی جا پہنچا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلََّّ ا جتماع میں شرکت کی ،اجتماع کے اختتام پر امیرِ اہلسنّت دَامت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ نے رات کو ملاقات فرمائی۔ تو میں بھی ملاقات کيلئے رک گیا جب آدھی رات کے وقت میری ملاقات کی باری آئی توامیرِ اہلسنّت دَامت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ نے مجھ سے فرمایا '': آپ اکیلے ہی آگئے؟ (یعنی