اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوچکے تھے اور دعوتِ اسلامی کے تحت رمضان المبارک میں ہونے والے اجتماعی اعتکاف کی بھی سعادت حاصل کرچکے تھے۔ انہوں نے جب میری حالتِ زار دیکھی تھی تو نہایت ہمدردانہ لہجے میں مجھے سمجھایااورکہاکہ ميں آپ کو ايک ايسے عالِم دین کی کيسٹ سناتا ہوں کہ جنہوں نے لاکھوں نوجوانوں کونہ صرف فرائض وواجبات بلکہ سنتّوں پر عمل کرنے کا جَذْبَہ دیا ہے،لندن و پیرس کے سپنے دیکھنے والوں کومیٹھے مدینے کادیوانہ بنادیاہے ۔وہ میرے پرانے دوست تھے ان کی یہ باتیں سن کر میرے دل میں بیان سننے کی تڑپ بڑھتی چلی گئی ۔انہوں نے مجھے امیرِاہلسنّت، بانی دعوتِ ِاسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمدالیاس عطار قادری رضوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بيان'' قبر کی پہلی رات'' کا کیسٹ سنايا، جسے سن کرميں بہت متأثر ہوا اور دعوتِ اسلامی سے نفرت محبت میں بدل گئی ۔بدمذہب اور ان کا مدرسہ میرے دل سے اتر گئے ،ميں نے اس مدرسہ کو چھوڑ ديا اور اسلام آباد ميں اہلِسنّت کے ايک مدرسہ ميں داخلہ لے لیا۔ شیخِ طریقت ، امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دستِ مبارک پر بیعت ہو کر غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مریدوں میں شامل ہو کر عطّاری بھی ہو گیا ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ مجھے اپنے