| فکرِ مدینہ |
ایک مرتبہ رات بھر مَدَنی مشورے کے باعث امیر اہلسنت دامت برکاتھم العالیہ سو نہ سکے ۔ بعد ِ فجر ایک اسلامی بھائی نے عرض کی'' ابھی آپ آرام فرمالیں، 10:00 بجے دوبارہ اٹھنا ہے،لہذا! اٹھ کر اشراق و چاشت ادا فرمالیجئے گا۔''آپ نے جواب دیا کہ'' زندگی کا کیا بھروسا، سوکر اٹھنا نصیب ہویا نہیں.. یا.. کیا معلوم آج زندگی کے آخری نفل ادا ہورہے ہوں؟'' یہ فرمانے کے بعد اشراق و چا شت کے نفل ادا فرمائے پھر آرام فرمایا۔ (اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
(10) فکر ِمدینہ کروانے کا ایک انداز
دعوتِ اسلامی کے اوائل میں شیخ طریقت امیرِاہل ِ سنت مدظلہ العالی کے ہاتھوں بیعت ہو کرمدنی ماحول سے وابستہ ہونے والے نواب شاہ (سندھ )سے تعلق رکھنے والے مبلغ ِ دعوتِ اسلامی نے بتایا کہ ،''میں پہلے پہل عورتوں اور مردوں کے مشترکہ ورائٹی پروگرامز میں رنگین روشنیوں کے بیچ ناچ گانا کر کے لوگوں کو تفریح مہیا کرتا تھا۔لیکن الحمدللہ عزوجل ! شیخ طریقت امیر اہلسنت دامت برکاتھم العالیہ کا مریدبننے اور دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ ماحول کو اپنا لینے کی برکت سے میری زندگی میں مَدَنی انقلاب برپا ہوگیا ۔مجھے گناہوں سے توبہ کرنے اور نیکیوں کی طرف مائل ہونے کی توفیق ملی۔ میں فرائض و واجبات تو کیا ، مستحبات و نوافل پر بھی عمل پیرا رہنے لگانیزراہِ خدا عزوجل میں سفر کرنے والے عاشقان ِ رسول ( )کے مَدَنی قافلوں میں سفرکر کے نیکی کی