| فکرِ مدینہ |
(کراچی) میں بہت بڑے اجتماع ِ ذکر ونعت کا انعقاد کیا جاتا ہے جوغالباً اس موقع پر ہونے والا روئے زمین کا سب سے بڑا اجتماعِ ذکرو نعت ہے۔ ربیع النور شریف۱۴۱۸ھ کی ۱۲ ویں رات ۱۲ بجے جب بانی دعوتِ اسلامی امیر اہلسنت مدظلہ العالی اجتماع میں بیان کرنے کیلئے پہنچے تو تلاوت شروع ہوچکی تھی۔لہذا! آپ منچ (اسٹیج )پر جلوہ گر ہوکر حاضرین کے سامنے آنے کی بجائے منچ کی سیڑھیوں پرہی بیٹھ کر تلاوت سننے میں مشغول ہوگئے۔تلاوت ختم ہونے کے بعد جب آپ کے بڑے شہزادے حاجی عبیدرضا ابن عطار نے عرض کی کہ'' آپ براہ راست منچ پر تشریف لانے کے بجائے اس کی سیڑھی پر بیٹھ گئے، اس میں کیا حکمت تھی؟''تو ارشاد فرمایا قرآن پاک میں ہے کہ
''وَاِذَا قُرِیئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہ، وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ۔
ترجمہ کنز الایمان:اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔''
(پ۹،الاعراف :۲۰۴)
اور ۔۔۔۔۔۔ ''فتاویٰ رضویہ(جلد دہم،ص۱۶۷)'' میں ہے ، ''جب بلند آواز سے قرآن پاک پڑھا جائے تو حاضرین پر سننا فرض ہے جبکہ وہ مجمع سننے کی غرض سے حاضر ہو، ورنہ ایک کا سننا کافی ہے۔ اگرچہ دوسرے لوگ کام میں ہوں۔''
پھر فرمایا،''جب میں حاضر ہوا تو تلاوت جاری تھی، اب اگر میں سیدھا منچ پر چلا جاتا تو خدشہ تھا کہ کوئی اسلامی بھائی استقبالی نعرہ لگا دیتا اور دوران ِتلاوت ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہے، لہٰذا ! میں نے لوگوں کی نظر سے اوجھل رہ کر منچ کی سیڑھیوں پر بیٹھ جانے ہی میں عافیت جانی۔''
(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )