Brailvi Books

فکرِ مدینہ
100 - 166
دعوت عام کرنے کی سعادت بھی حاصل ہونے لگی۔گناہوں سے دوری اور نیکیوں کی سعادت ملنے کی بناء پر مجھ پر سُرور کی ایک عجیب کیفیت طاری رہنے لگی۔

    اسی کیفیت میں ایک مرتبہ امیرِ اہل سنت دامت برکاتھم العالیہ کی بارگاہ میں حاضری ہوئی اور میں آپ کی ہمراہی میں باب المدینہ( کراچی) شہید مسجد کھارادرسے آپ کے آستانے شریف واقعِ موسیٰ لین( باب المدینہ )کی طرف جارہا تھاکہ سُرورکی اسی کیفیت میں اچانک میں نے پیرو مرشد کی بارگاہ میں عرض کی''! حضور مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں جنتی ہوں۔''آپ یہ بات سن کر چونکے اور فوراً پوچھا'' یہ آپ کیونکر کہہ رہے ہیں؟''میں نے عرض کی'' حضور!دعوت اسلامی جیسے مَدَنی ماحول سے وابستگی، اسکی بَرَکت سے گناہوں سے بچتے ہوئے نیکیوں پر استقامت کا حصول اورپھر آپ جیسے ولی کامل سے مرید ہونے کی سعادت۔۔۔۔۔۔ اسلئے مجھے لگتا ہے میں جنتی ہوں۔''

     آپ نے مجھے فکرِ مدینہ کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا،'' حضرت سیدُناعمر فاروق رضی اللہ عنہ کے جنتی ہونے سے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟'' میں نے عرض کی ''حضور! وہ تو'' قطعی جنتی'' ہیں۔'' یہ سن کر آپ نے ارشاد فرمایا،'' قطعی جنتی ہونے کے باوجود آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حالت یہ تھی کہ آپ خوف خدا عزوجل میں اس قدر رویا کرتے تھے کہ آپ کے مبارک اور روشن رخسارِ نور بار پر کثرت گریہ کے سبب لکیریں بن گئی تھیں، کیا یہی حالت آپ کی بھی ہے؟''

    آپ کی بات سن کر میں نے فوراً اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ واستغفار کی ۔ آپ نے فکر ِ مدینہ کی ترغیب جاری رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا ''ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ عزوجل کے فضل سے کتنی بھی نیکیاں کرنے کی سعادت ملے اور گناہوں سے بچنے کا کتنا