شیخِ طریقت ، امیرِ اہل سنت، بانی دعوتِ اسلامی علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ نے ۱۴۰۰ھ میں حرمین طیبین کی زیارت کاارادہ کیا اور اپنا پاسپورٹ ویزا کے لئے جمع کروا دیا ۔ ویزا لگ جانے پر جب آپ اپناپاسپورٹ لینے کے لئے متعلقہ ایمبیسی پہنچے تو ویزا لینے والوں کی ایک طویل قطار لگی ہوئی تھی ۔ آپ قطار ہی میں کھڑے ہوگئے ۔ کسی شناسا ٹریول ایجنٹ کی نظر آپ پر پڑی کہ اتنے اعلیٰ مرتبے کے حامل ہونے کے باجود انکساری کرتے ہوئے قطار میں کھڑے ہوئے ہیں تو اس نے بعد ِ سلام عرض کیا ،''حضور! قطار بہت طویل ہے ، آپ کو کئی گھنٹوں تک دھوپ میں انتظار کرنا پڑے گا ،آئيے میں آپ کو (اپنے تعلقات کی بنا پر)کھڑکی کے قریب پہنچا دیتا ہوں۔'' تو آپ نے بڑی نرمی سے منع فرمادیا جس کی وجہ یہ تھی کہ اگر آپ اس کی پیش کش قبول فرماکر آگے تشریف لے جاتے تو پہلے سے قطار میں کھڑے ہونے والوں کی