Brailvi Books

فکرِ مدینہ
95 - 166
لئے ۔ ان صاحب کے بیٹے نے آپ سے پوچھا کہ آپ کے استعمال کا عصا کون سا ہے؟ تاکہ ایک عصا واپس کیا جاسکے لیکن آپ نے (فکر مدینہ کرتے ہوئے )فرمایا کہ میں دونوں عصا لے لینے کی اجازت دے چکا ہوں نیز میں اپنی پسندیدہ شے راہِ خدا عزوجل میں خرچ کرنے کا ثواب کمانا چاہتا ہوں ، قرآن پاک میں ہے ،
''لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ۔
ترجمہ کنزالایمان : تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خد ا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو ۔(پ۴،اٰل عمران ۹۲)

(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 (4) قطار میں'' فکر ِ مدینہ ''....
    شیخِ طریقت ، امیرِ اہل سنت، بانی دعوتِ اسلامی علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ نے ۱۴۰۰ھ میں حرمین طیبین کی زیارت کاارادہ کیا اور اپنا پاسپورٹ ویزا کے لئے جمع کروا دیا ۔ ویزا لگ جانے پر جب آپ اپناپاسپورٹ لینے کے لئے متعلقہ ایمبیسی پہنچے تو ویزا لینے والوں کی ایک طویل قطار لگی ہوئی تھی ۔ آپ قطار ہی میں کھڑے ہوگئے ۔ کسی شناسا ٹریول ایجنٹ کی نظر آپ پر پڑی کہ اتنے اعلیٰ مرتبے کے حامل ہونے کے باجود انکساری کرتے ہوئے قطار میں کھڑے ہوئے ہیں تو اس نے بعد ِ سلام عرض کیا ،''حضور! قطار بہت طویل ہے ، آپ کو کئی گھنٹوں تک دھوپ میں انتظار کرنا پڑے گا ،آئيے میں آپ کو (اپنے تعلقات کی بنا پر)کھڑکی کے قریب پہنچا دیتا ہوں۔'' تو آپ نے بڑی نرمی سے منع فرمادیا جس کی وجہ یہ تھی کہ اگر آپ اس کی پیش کش قبول فرماکر آگے تشریف لے جاتے تو پہلے سے قطار میں کھڑے ہونے والوں کی
Flag Counter