Brailvi Books

فکرِ مدینہ
94 - 166
 (2) ''فکر ِ مدینہ ''کا انوکھا انداز ....
     امیرِ دعوتِ اسلامی،امیرِ اہلِ سنت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ ایک مرتبہ رات میں سحری کے وقت کہیں سے گھر واپس آرہے تھے کہ آپ کے قافلے میں شامل گاڑیوں کوایک ناکے پر پولیس والوں نے روک لیا اور تلاشی لینے پر اصرار کیا ۔ اُن سے درخواست کی گئی کہ سحری کاوقت ختم ہونے ہی والا ہے اس لئے آپ بغیر تلاشی کے جانے دیجئے، لیکن انہوں نے اس کی اجازت دینے سے انکار کردیا اور تلاشی لینا شروع کر دی ، اس دوران سحری کا وقت جاتا رہا ۔ تلاشی لے چکنے کے بعد ایک پولیس والے نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا ،' کیا کریں جی ! یہ ہماری ڈیوٹی ہے ۔'' بے اختیار آپ کے منہ سے یہ الفاظ نکل گئے ،''کاش ! آپ اپنا فرض سمجھتے '' جب قافلہ گھر پہنچا تو کچھ ہی دیر بعد اسلامی بھائیوں کو امیر ِ اہلِ سنت کی تلاش ہوئی کیونکہ آپ کہیں دکھائی نہ دے رہے تھے ۔ کچھ دیر گزرنے کے بعد آپ باہر سے تشریف لائے اور فرمایا کہ ،''میں نے اس پولیس والے سے یہ کہہ ڈالا تھا کہ'' کاش! آپ اپنا فرض سمجھتے ۔۔۔۔۔۔''ہوسکتا ہے کہ اس کی دل آزاری ہوگئی ہو کہ اس نے تو واقعی اپنا فرض نبھایا تھا ، اس لئے میں اس کو راضی کرنے کی خاطر نکلا تھا لیکن وہ مجھے نہ مل سکا ۔''

(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 (3) کسی کے پسندیدہ چیز لے لینے پر''فکر ِ مدینہ'' ....
    ایک مرتبہ شیخ ِطریقت، رہبرِ شریعت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ سے ان کے ایک عزیز نے (بطورِ برکت )ان کے استعمال کا عصا مانگا تو آپ نے فرمایا ،''ایک کی بجائے دو لے لیجئے۔''جواباًانہوں نے واقعی دونوں عصا لے
Flag Counter