Brailvi Books

فکرِ مدینہ
93 - 166
''41حکایاتِ عطاریہ'' پیش خدمت ہیں۔
(1) بلااُجرت زائد کام کروالینے پر''فکرِ  مدینہ'' ....
     امیر اہل سنت،مجدد  دین وملت، علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ پہلے پہل کراچی کی ایک مسجد میں امامت فرماتے تھے ۔آپ کو مسجد کے حجرے کے لئے اپنے نام کی پلیٹ لگانے کے لئے ضرورت محسوس ہوئی تو آپ نے تحریری طور پر اپنا نام ''محمد الیاس قادری رضوی ''پینٹر کے حوالے کیا اور اجرت بھی طے کر لی ۔ جب آپ وہ پلیٹ واپس لینے گئے تو پینٹر کے ملازم سے کہا کہ '' قادری رضوی کے ساتھ ''ضیائی ''کا لفظ بھی بڑھا دے (تاکہ پیرو مرشد سیدنا ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمۃ کی طرف نسبت کا بھی اظہار ہوجائے ) '' اس ملازم نے یہ لفظ بڑھا دیا اور آپ پہلے سے طے شدہ اجرت ادا کر کے واپس لوٹ آئے ۔ پھر اچانک خیال آیا کہ مجھ سے تو حق تلفی ہوگئی ہے یعنی اجرت طے کرنے کے بعد لفظ''ضیائی'' اور وہ بھی پینٹر کی اجازت کے بغیر اس کے ملازم سے لکھوایا ہے جبکہ ظاہر ہے کہ اجرت طے کر لینے کے بعد کسی لفظ کے اضافہ کا حق حاصل نہ تھا ، پھر اس اضافہ میں رنگ بھی استعمال ہوا اور اس ملازم کا وقت بھی صرف ہوا۔ یہ سوچ کر آپ پریشان ہوگئے اور دوبارہ پینٹر کے پاس پہنچ کر اپنی پریشانی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ ،''براہِ مہربانی ! آپ مزید پیسے لے لیں یا لفظ کا اضافہ معاف فرما دیں ۔'' آپ کا یہ انداز دیکھ کر پینٹر ہکا بکّا رہ گیا اور اس نے معافی کے ساتھ ساتھ آپ سے گہری عقیدت کا اظہار کیا اور یہ دعا مانگی کہ،'' اللہ عزوجلمجھے بھی آپ جیسا کر دے ۔''

(اللہ عزوجل کی اِن پر رحمت ہو..ا ور.. اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
Flag Counter