مارو۔''اورٹوپی اتارکراصرار فرمارہے ہیں ۔دوسرے معتکفین یہ سن کر مضطرب اور پریشان ہو گئے اوروہ بچہ بھی بہت پریشان اورکانپنے لگا ۔اس نے ہاتھ جوڑکر عرض کیا ''حضور! میں نے معاف کیا ۔''فرمایا'' تم نابالغ ہو تمہیں معاف کرنے کا حق نہیں ،تم چپت مارو ۔''مگروہ مارنے کی ہمت نہ کر سکا۔آپ نے اپنا بکس منگواکر مٹھی بھر پیسے نکالے اوروہ پیسے دکھا کر فرمایا'' میں تم کو یہ دوں گا، تم چپت مارو ۔'' مگربے چارہ یہی کہتا رہا، '' حضور! میں نے معاف کیا۔''آخرکار اعلیٰ حضرتعلیہ رحمۃ الرحمن نے اس کا ہاتھ پکڑکر بہت سی چپتیں ،اپنے سرمبارک پر اس کے ہاتھ سے لگائیں اورپھر اس کو پیسے دے کررخصت کیا۔( حیاتِ اعلیٰ صجلد ۱، ص ۱۰۷)
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )