Brailvi Books

فکرِ مدینہ
92 - 166
مارو۔''اورٹوپی اتارکراصرار فرمارہے ہیں ۔دوسرے معتکفین یہ سن کر مضطرب اور پریشان ہو گئے اوروہ بچہ بھی بہت پریشان اورکانپنے لگا ۔اس نے ہاتھ جوڑکر عرض کیا ''حضور! میں نے معاف کیا ۔''فرمایا'' تم نابالغ ہو تمہیں معاف کرنے کا حق نہیں ،تم چپت مارو ۔''مگروہ مارنے کی ہمت نہ کر سکا۔آپ نے اپنا بکس منگواکر مٹھی بھر پیسے نکالے اوروہ پیسے دکھا کر فرمایا'' میں تم کو یہ دوں گا، تم چپت مارو ۔'' مگربے چارہ یہی کہتا رہا، '' حضور! میں نے معاف کیا۔''آخرکار اعلیٰ حضرتعلیہ رحمۃ الرحمن نے اس کا ہاتھ پکڑکر بہت سی چپتیں ،اپنے سرمبارک پر اس کے ہاتھ سے لگائیں اورپھر اس کو پیسے دے کررخصت کیا۔( حیاتِ اعلیٰ صجلد ۱، ص ۱۰۷)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
   41حکایاتِ عطّاریہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! 

    الحمدللہ عزوجل! شیخ ِ طریقت ،آفتابِ قادریت، مہتابِ رضویت ،عالمِ شریعت، پیرِ طریقت، پروانہ شمع ِرسالت، عاشق ِاعلیٰ حضرت، امیرِ اہلِ سنت ،بانی ئ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتھم العالیہ آج کے پرفتن دور میں ہمارے انہی اسلاف کرام رحمھم اللہ کی یادگارہیں جن کی'' فکرِ مدینہ'' کے سبق آموز واقعات آپ نے پچھلے صفحات میں پڑھے ۔ اسلاف کرام کے نقش ِ قدم پر چلتے ہوئے امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی نہ صرف خود ''فکر ِ مدینہ ''میں مشغول رہتے ہیں بلکہ دوسرے اسلامی بھائیوں کو بھی'' فکر ِ مدینہ'' کا ذہن دیتے رہتے ہیں ۔آپ کے '' فکرِ مدینہ''کرنے اور اس کی ترغیب دینے سے متعلق
Flag Counter