| فکرِ مدینہ |
عورت پر پڑی تو شیطان نے انہیں بہکا دیا ۔ چنانچہ آپ اس عورت کی طرف بڑھے لیکن جیسے ہی اپنا ایک پاؤں حجرہ سے باہر نکالا ،خوف ِ خدا ل آپ پر غالب آیا اور اپنا محاسبہ کرتے ہوئے کہنے لگے،''نہیں! مجھے یہ کام نہیں کرنا چاہے (اور اس گناہ سے رک گئے )۔''(کتاب التوابین ، ص۷۹ ) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 90) خادم کو سزا دینے کے بعد''فکر ِ مدینہ'' ....
امام اہلِ سنت ، مجدد ِ دین وملت ، پروانہ شمع رسالت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ایک مرتبہ بریلی شریف کی مسجد میں معتکف تھے ۔آپ بعد ِ افطار کھانا تناول نہ فرماتے بلکہ صرف پان نوش فرماتے ۔جبکہ سحری کے وقت گھر سے صرف ایک چھوٹے سے پیا لے میں فیرینی او رایک پیالی میں چٹنی آیا کرتی تھی، وہ نوش فرمایا کرتے تھے۔
ایک دن شا م کو پا ن نہیں آئے اور آپ کی یہ پختہ عادت تھی کہ کھا نے کی کو ئی چیز طلب نہیں فرماتے تھے چنانچہ خاموش رہے ۔لیکن طبیعت میں ناگواری ضرور پیدا ہوئی۔ مغرب سے تقریباً دو گھنٹہ بعد گھر کا ملازم ایک بچہ پان لایا ،اعلیٰ حضرتعلیہ رحمۃ الرحمن نے اسے ایک چپت مارکر فرمایا کہ'' اتنی دیر میں لایا ؟''لیکن بعد میں آپ کو خیال آیا کہ اس بے چارے کا تو کوئی قصور نہ تھا ، قصور تو دیر سے بھیجنے والے کا تھا ۔
چنانچہ سحری کے وقت سحری کرنے کے بعد مسجد کے باہر دروازہ پر تشریف لائے۔ اور اُس بچے کو بلوایا جو شام کوپان دیر میں لایا تھا اورفرمایا کہ'' شام کومیں نے غلطی کی جوتمہارے چپت ماری 'دیر سے بھیجنے والے کا قصورتھا ،لہذا تم میرے سر پرچپت