| فکرِ مدینہ |
نہایت مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا کہ میں تو کسی ایک گناہ کا بھی حساب نہ دے پاؤں گا ۔''یہ کہنے کے بعد انہوں نے سر سے عمامہ اتار ا اور زاروقطار رونا شروع کر دیا ،یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو گئے ۔ کچھ دیر بعد انہیں افاقہ ہوا تو پھر رونے لگے اور اتنی شدت سے گریہ وزاری کی کہ ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔(حکایات الصالحین،ص ۴۹) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 88) ایک باپ کی ''فکر ِ مدینہ'' ....
مروی ہے کہ ایک شخص کا چھوٹا بچہ اس کے ساتھ بستر پر سویا کرتا تھا ۔ ایک رات وہ بچہ بہت بے چین ہوا اور سویا نہیں ۔ اس کے باپ نے پوچھا ،''پیارے بیٹے!کیا کہیں پردرد ہے؟'' تو بچے نے عرض کی،''اباجان!نہیں ، لیکن کل جمعرات ہے جس میں پورے ہفتے کے دوران پڑھائے جانے والے اسباق کا امتحان ہوتا ہے ، اور مجھے یہ خوف کھائے جارہا ہے کہ اگر میں نے سبق صحیح نہ سنایا تو استاذ صاحب مجھ سے ناراض ہوں گے اور سزا دیں گے ۔'' یہ سن کر اس شخص نے زور سے چیخ ماری اور اپنے سر پر مٹی ڈال کر رونے لگا اوراپنا محاسبہ کرتے ہوئے کہنے لگا،''مجھے اس بچے کی نسبت زیادہ خوف زدہ ہونا چاہے کہ کل قیامت کے دن مجھے دنیا میں کئے گئے گناہوں کا حساب اپنے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں دینا ہے ۔''(درۃ الناصحین ،المجلس الخامس والستون ،ص۲۹۵) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 89) اللہ عزوجل کی نافرمانی میں قدم بڑھنے پر''فکر ِ مدینہ'' ....
بنی اسرائیل میں ایک بزرگص عرصہ دراز سے اپنے حجرہ میں مصروفِ عبادت تھے ۔ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے دروازے پر آن کھڑی ہوئی اور ان کی نگاہ اس