| فکرِ مدینہ |
گی۔'' ماں نے یہ سن کر کہا ،''اچھا ! تھوڑا سا تو آرام کر لو۔'' وہ کہنے لگے ،''میں کیسے آرام کر سکتا ہوں کیا آپ میری مغفرت کی ضمانت دیتی ہیں؟ کون میری بخشش کی ضمانت دے گا ؟ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجئے! ایسا نہ ہو کہ کل لوگ جنت کی جانب جارہے ہوں اور میں جہنم کی طرف۔۔۔۔۔۔۔''
ایک مرتبہ ان کی والدہ قریب سے گزریں تو انہوں نے یہ آیت پڑھی ،''فَوَرَبِّکَ لَنَسْئَلَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ 0 عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔
تو تمہارے رب کی قسم ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے ، جو کچھ وہ کرتے تھے ۔
(ترجمہ کنزالایمان ۔پ۱۴،الحجر۹۲،۹۳)''
اور اس پر غور کرنے لگے ، یہاں تک سانپ کی طرح لَوٹنے لگے ،بالآخر بے ہوش ہوگئے ۔ ان کی ماں نے بہت پکارا لیکن کوئی جواب نہ ملا ۔ وہ کہنے لگی،''میری آنکھوں کی ٹھنڈک !اب کہاں ملاقات ہوگی ؟'' انہوں نے کمزور سی آواز میں جواب دیا ،''اگر قیامت کے دن میں آپ کو نہ مل سکوں تو درواغہ جہنم سے پوچھ لینا۔'' پھر ایک چیخ ماری اور ان کی روح پرواز کر گئی۔(کتاب التوابین ، ص۲۵۶ )
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )( 87) ایامِ زندگی شمار کرکے ''فکر ِ مدینہ'' ....
پچھلی امتوں میں سے ایک بزرگ جن کا نام زید بن صمت علیہ الرحمۃ تھا ، ایک دن اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے ،''میرے دوستو! آج جب میں نے اپنی عمر کا حساب لگایا تو میری عمر ساٹھ سال بنتی ہے اور ان سالوں کے دن بنائے جائیں تو اکیس ہزار چھ سو بنتے ہیں۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ اگر ہر روز میں نے ایک گناہ بھی کیا ہوتو قیامت کے دن مجھے