''تیری ہلاکت ہو! ایک دن تُو بھی ان میں شامل ہوجائے گا اور تیری ہڈیاں بھی اسی طرح بوسیدہ ہوجائیں گی جبکہ جسم مٹی میں مل جائے گا ، اس کے باوجود تُو گناہوں میں مشغول ہے؟''اس کے بعد اس نے توبہ کی اور کہنے لگا،''اے میرے رب ل! میں خود کو تیری بارگاہ میں پیش کرتا ہوں ، مجھ پر رحم فرما اور مجھے قبول کر لے۔''
پھر وہ زرد چہرے اور شکستہ دل کے ساتھ اپنی ماں کے پاس پہنچے اور کہنے لگے،''امی جان!بھاگا ہوا غلام جب پکڑا جائے تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے ؟'' ماں نے جواب دیاکہ،''اسے کھردرا لباس، سوکھی روٹی دی جاتی ہے اور اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے جاتے ہیں۔''انہوں نے عرض کی ،''آپ میرے ساتھ وہی سلوک کریں جو بھاگے ہوئے غلام کے ساتھ کیا جاتا ہے، شاید کہ میری اس ذلت کو دیکھ کر میرا مالک مجھے معاف فرما دے۔'' ان کی ماں نے یہ خواہش پوری کر دی ۔جب رات ہوتی تو یہ روتے اور آہ وزاری شروع کر دیتے اورفرماتے،''اے دینار !تو ہلاک ہوجائے! کیا تجھے اپنے آپ پر قابو نہیں ہے ،تو کس طرح اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچ سکے گا؟''یہاں تک کہ صبح ہو جاتی۔