بندے مجھے اپنے پاس پناہ دے ۔''لیکن عابد نے اس کی پرواہ نہ کی اور نماز میں مشغول ہو گیا۔وہ طوائف اسے بارش اور اندھیری رات یاد دلا کر پناہ طلب کرتی رہی حتی کہ عابد نے رحم کھا کر اسے اندر بلا لیا ۔وہ عابد سے کچھ فاصلے پر جا کر لیٹ گئی اور اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش شروع کر دی۔یہاں تک کہ عابد کا دل بھی اس کی طرف مائل ہو گیا۔
لیکن اسی لمحہ اللہ عزوجلکے خوف نے اس کے دل میں جوش مارا،عابدنے اپنا محاسبہ کرتے ہوئے خود کو مخاطب کر کے کہا ،''واللہ !ایسا نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تو دیکھ لے کہ آگ پر کتنا صبر کرسکتا ہے۔''پھر وہ چراغ کے پاس گیا اور اپنی ایک انگلی اس کے شعلے میں رکھ دی ،حتی کہ وہ جل کر کوئلہ ہو گئی ۔پھر اس نے نماز کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش کی لیکن اس کے نفس نے دوبارہ فاحشہ کی طرف بڑھنے کا مشورہ دیا۔یہ چراغ کے پاس گیا اور اپنی دوسری انگلی بھی جلا ڈالی،پھر اس کا نفس اسی طرح خواہش کرتا رہا اور وہ اپنی انگلیاں جلاتا رہا ،حتی کہ اس نے اپنی ساری انگلیاں جلا ڈالیں،عورت یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی،چنانچہ خوف و دہشت کے باعث اس نے ایک چیخ ماری اور مر گئی۔
(ذم الھوٰی،ص۱۹۹)