Brailvi Books

فکرِ مدینہ
85 - 166
    جب اس نے یہ آیت سنی تو اس کے غم کی شدت میں اور اضافہ ہوگیا اور وہ شدتِ کرب سے چیخنے لگا اور میں اسے اسی حالت میں چھوڑ کر آگے بڑھ گیا ۔ دوسرے دن صبح کے وقت میں دوبارہ اس گھر کے قریب سے گزرا تو دیکھا کہ ایک میت موجود ہے اور لوگ اس کے کفن ودفن کے انتظام میں مصروف ہیں ۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ'' یہ مرنے والا کون تھا؟'' تو انہوں نے جواب دیا کہ،''مرنے والا ایک نوجوان تھا جو ساری رات خوفِ خدا کے سبب روتا رہا اور سحری کے وقت انتقال کر گیا ۔''

(شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ ،ج۱،ص۵۳۰،رقم الحدیث ۹۳۷)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 ( 83) ویرانے میں'' فکر ِ مدینہ''....
    ایک بادشاہ جوشکار کے لئے نکلاتھا ،جنگل میں اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا ۔ اس نے جنگل میں ایک جگہ کمزورغم زدہ نوجوان کو دیکھا جو بیٹھا انسانی ہڈیوں کو الٹ پلٹ کر رہا ہے ۔ بادشاہ نے نوجوان سے پوچھا ،''تمہیں کیا ہوا؟اور اس سنسان ویرانے میں اکیلے کیا کررہے ہو ؟'' اس نوجوان نے جواب دیا ،''اس لئے کہ مجھے طویل سفر درپیش ہے ، دوموَکل (یعنی دن اور رات)میرے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور مجھے خوف دلا کر آگے (یعنی موت )کی جانب دوڑا رہے ہیں ،۔۔۔۔۔۔ میرے سامنے تنگ وتاریک ، تکالیف سے بھرپور قبر ہے ،۔۔۔۔۔۔ آہ ! عنقریب مجھے زیر ِ زمین گلنے سڑنے کے لئے چھوڑ دیا جائے گا ، ۔۔۔۔۔۔آہ! وہاں تنگی ووحشت کا بسیرا ہوگا ، مجھے کیڑوں کی خوراک بننا ہوگا یہاں تک کہ میری ہڈیاں الگ الگ ہوجائیں گی ،۔۔۔۔۔۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کے بعد قیامت کا کٹھن مرحلہ بھی ہوگا ، میں نہیں جانتا کہ اس کے بعد مجھے داخل ِ جنت ہونا نصیب ہوگا یا (معاذ اللہ )مجھے جہنم
Flag Counter