Brailvi Books

فکرِ مدینہ
84 - 166
 ( 82) زندگی کی آخری رات میں ''فکر ِ مدینہ''....
    حضرت منصور بن عمارص فرماتے ہیں کہ میں کوفہ میں رات کے وقت ایک گلی سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک درد بھری آواز میری سماعت سے ٹکرائی ، اس آواز میں اتنا کرب تھا کہ میرے اٹھتے ہوئے قدم رک گئے اور میں ایک گھر سے آنے والی اس آواز کو غور سے سننے لگا ۔

    میں نے سنا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بندہ(فکر ِ مدینہ کرتے ہوئے) ان الفاظ میں اپنے رب ل کی بارگاہ میں مناجات کر رہا تھا،''اے اللہل ! تو ہی میرا مالک ہے ! تو ہی میرا آقا ہے ! تیرے اس مسکین بندے نے تیری مخالفت کی بناء پر سیاہ کاریوں اور بدکاریوں کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ نفس کی خواہشات نے مجھے اندھا کر دیا تھا اور شیطان نے مجھے غلط راہ پر ڈال دیا تھا جس کی وجہ سے میں گناہوں کی دلدل میں پھنس گیا ، اے اللہ !اب تیرے غضب اور عذاب سے کون مجھے بچائے گا ؟''
    (یہ سن کر)میں نے باہر کھڑے کھڑے یہ آیت کریمہ پڑھی ،
    '' یٰاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَیْھَا مَلٰۤئِکَۃٌ غِلاَظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللہَ مَآ اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ 0
ترجمہ کنزالایمان :اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ، اس پر سخت کرّے(طاقتور) فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں ۔ (پ ۲۸، التحریم ۶)
Flag Counter