| فکرِ مدینہ |
بغدادی رضی اللہ عنہ آن پہنچے ۔ وہ شخص آپ سے کہنے لگا،''ایسی حسین صورت بھی جہنم میں جلے گی ؟'' آپ نے فرمایاکہ،''اس پر نگاہ ڈالنا بھی نفسانی خواہش کے سبب ہے ، اگر عبرت کا حصول ہی مقصود ہے تو دنیا میں اور بھی بہت سی چیزیں ہیں ۔''(تذکرۃ الاولیاء، ج۲ ، ص ۵۳ ) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 80) گناہ کا موقع ملنے پر ''فکر ِ مدینہ'' ....
بنی اسرائیل کا ایک شخص نہایت عبادت گزار تھا ۔ وہ رات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتا اور دن میں گھوم پھر کر کچھ اشیاء لوگوں کو بیچا کرتا۔ وہ اکثر اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے کہتا ،''اے نفس! اللہ عزوجل سے ڈر۔'' ایک دن وہ حسب معمول اپنے گھر سے روزی کمانے کے لئے نکلا اور چلتے چلتے ایک امیر کے دروازے کے قریب پہنچا اور اپنی اشیاء بیچنے کے لئے صدا لگائی ۔ امیر کی بیوی نے جب اس حسین شخص کو اپنے دروازے کے قریب دیکھا تو اس پر عاشق ہوگئی اور اسے بہانے سے محل کے اندر بلا لیا پھر اس سے کہنے لگی ،''اے تاجر ! میرا دل تمہاری طرف مائل ہوچکا ہے ، میرے پاس بہت مال ہے اورزرق برق لباس ہیں،تم یہ کام چھوڑ دو میں تجھے ریشمی لباس اور بہت سا مال دوں گی ۔''
یہ پیش کش سن کر اس کا نفس اس عورت کی طرف مائل ہونے لگا لیکن اس نے اپنی عادت کے مطابق کہا،''اے نفس ! اللہ عزوجل سے ڈر ۔''اور اس عورت کو جواب دیا ،''مجھے اپنے رب ل کا خوف ہے ۔'' وہ عورت کہنے لگی ،''تم میری خواہش پوری کئے بغیر یہاں سے