Brailvi Books

فکرِ مدینہ
81 - 166
کو کس طرح برداشت کر پاؤ گے ؟ ''(درۃ الناصحین ، ص۳۰۵،المجلس السابع والستون)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 ( 78) نوجوان کی ''فکرِ مدینہ ''....
    حضرت سَیِّدُنا عطا  رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم چند لوگ ایک مرتبہ باہر نکلے ۔ ہم میں بوڑھے بھی تھے اوروہ نوجوان بھی جو فجر کی نماز عشاء کے وضو سے پڑھتے تھے حتی کہ طویل قیام کی وجہ سے ان کے پاؤں سوج گئے تھے اور آنکھیں اندر کو دھنس چکی تھیں ،ان کی جلد کا چمڑا ہڈیوں سے مل گیا تھا اور رگیں باریک تاروں کی مثل معلوم ہوتی تھیں ۔ ان کی حالت ایسی ہوگئی تھی کہ گویا وہ قبروں سے نکل کر آرہے ہوں۔ ہمارے درمیان یہ گفتگو چل رہی تھی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اطاعت گزار لوگوں کو عزت بخشی اور نافرمان لوگوں کو ذلیل کیا، کہ اسی دوران ان میں سے ایک نوجوان بے ہوش ہو کر گر گیا اور اس کے دوست اس کے گرد بیٹھ کر رونے لگے ۔ سخت سردی کے باوجود اس کے ماتھے پر پسینہ آیا ہوا تھا ۔ پانی لاکر اس کے چہرے پر چھڑکا گیا تو اسے افاقہ ہوا ۔ جب اس سے ماجرا پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ ''مجھے یہ یاد آگیا تھا کہ میں نے اس جگہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تھی۔''(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۹)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 ( 79) ایک شخص کو دعوتِ''فکر ِ مدینہ''....
    ایک شخص کسی حسین نوجوان یہودی کو دیکھنے میں مشغول تھا کہ حضرت سیدنا جنید
Flag Counter