| فکرِ مدینہ |
حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر میں ایک مرتبہ چراغ بجھ گیا تو آپ محض اس خوف سے روتے رہے کہ کہیں ایمان کی شمع بھی غفلت کے جھونکوں سے نہ بجھ جائے۔(تذکرۃ الاولیاء ، ج ۱، ص ۲۶۷ ) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 76) ''ایک حبشی غلام ''کی''فکرِ مدینہ'' ....
حضرت سیدنا رباح عبسی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک حبشی غلام کو چار دینار میں خریدا ۔ وہ غلام نہ تو رات کو خود سوتا اور نہ ہی آپ کو سونے دیتا ۔ ایک مرتبہ جب رات کی تاریکی ہرطرف چھاچکی تھی ، آپ نے اس غلام سے پوچھا ،''اے بندے ! تم سوتے کیوں نہیں اور نہ ہی ہمیں سونے دیتے ہو ؟ اس نے جواب دیا ،''اے میرے مالک! جب رات کا اندھیرا پھیل جاتا ہے تو میں (فکر ِ مدینہ کرتے ہوئے)قبر اور جہنم کی تاریکی کو یاد کرتا ہوں تو میری نیند اڑ جاتی ہے ، اور جب میں اپنے رب ل کی بارگاہ میں کھڑے ہونے کو یاد کرتا ہوں تو میرا دل غمگین ہوجاتا ہے ، پھر جب میں جنت اور اس کی نعمتوں کو یاد کرتا ہوں تو میرا شوق ِ عبادت بڑھ جاتا ہے ، اب آپ ہی بتائیے کہ میں کیسے سو سکتا ہوں؟ '' حضرت سیدنا رباح رضی اللہ تعالی عنہ نے جب یہ جواب سنا تو رونے لگے حتی کہ آپ پر غشی کی کیفیت طاری ہوگئی ۔ جب آپ کی حالت کچھ سنبھلی تو ارشاد فرمایا،''اے غلام ! تم جیسی ہستی کا مالک مجھ جیسا آدمی نہیں ہونا چاہیے، میں تمہیں اللہ عزوجل کی رضا کے لئے آزاد کرتاہوں ۔'' (درۃ الناصحین ،المجلس الخامس والستون، ص۲۹۵) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )