| فکرِ مدینہ |
دنیا میں موجود ہیں ۔''پھر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور عبادت و ریاضت میں خوب مشقت برداشت کی اور بہت تھوڑا عرصہ زندہ رہ کر فوت ہو گئے۔(ذم الھوٰی، الباب التاسع والاربعون،ص۴۴۷) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 70) رات بھر قبرستان میں''فکرِ مدینہ'' ....
حضرت سیدنا عطاء سلمی رضی اللہ تعالی عنہ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ جب رات ہوتی تو قبرستان کی طرف نکل جاتے اورفرماتے ،''اے اھل قبور! تم مرگئے ، ہائے موت! تم نے اپنے اعمال دیکھ لئے ، ہائے رے عمل ! '' پھر فرماتے ،''کل عطا بھی قبرستان میں ہوگا ، کل عطابھی قبرستان میں ہوگا ۔'' صبح ہونے تک آپ یونہی فکر ِ مدینہ میں مشغول رہتے ۔(احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت ومابعدہ ، ج ۵، ص ۲۳۸ ) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 71) قبرستان کے مُردوں کو مخاطب کر کے''فکرِ مدینہ'' ....
حضرت سیدنا یزید رقاشی رضی اللہ تعالی عنہ قبروں کے پاس جاکر فرمایا کرتے ،''اے قبر کے گڑھے میں دفن ہو جانے والو ! اے تنہائی میں رہنے والو! اے زمین کے اندرونی حصہ سے مانوس ہوجانے والو!کاش مجھے پتہ چل جاتا کہ میں تمہارے کون سے اعمال سے خوش خبری حاصل کروں ؟ اور تم میں سے کون سے بھائی پر رشک کروں ؟ یہ فرماکر رونا شروع کر دیتے ۔(احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت ومابعدہ،ج۵ ، ص ۲۳۷)
( 72) قبر میں''فکرِ مدینہ'' ....
حضرت ربیع بن خثیم رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے گھر میں ایک قبر کھود رکھی تھی ۔ جب کبھی