حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا،'' اے بھائیو! میں رات بھر جاگتا رہا اور قبر والے کے بارے میں سوچتا رہا کہ اگر تم میت کو تین دن بعد اس کی قبر میں دیکھو توتمہیں اس کے ساتھ ایک طویل عرصہ تک مانوس رہنے کے باوجود اس سے وحشت ہونے لگے اور اگر تم اس کے گھر(یعنی قبر) کو دیکھو جس میں کیڑے پھر رہے ہوں ، پیپ جاری ہو، کیڑے اس کے بدن کو کھارہے ہوں، بدبو بھی آرہی ہو اور اس کا کفن بوسیدہ ہوچکا ہو ،۔۔۔۔۔۔جبکہ پہلے وہ خوبصورت تھا ، اس کی خوشبو اچھی تھی اور کپڑے بھی صاف تھے ،۔۔۔۔۔۔'' اتناکہنے کے بعد آپ نے چیخ ماری اور بے ہوش ہوگئے۔ (احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت ومابعدہ ، ج ۵، ص۲۳۷ )
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )