Brailvi Books

فکرِ مدینہ
74 - 166
فرمایا،''میں اپنے کسی گناہ کی وجہ سے نہیں رو رہا ہوں بلکہ مجھے تو صرف یہ سوچ کر رونا آگیا کہ میں نے بہت سی باتوں کو معمولی سمجھا حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑی باتیں تھیں ، تو میں ڈر رہا ہوں کہ کہیں ان باتوں پر میری پکڑ نہ ہوجائے ۔''اتنا کہنے کے فوراً بعد آپ کی وفات واقع ہوگئی ۔(احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت ومابعدہ، ،ج ۵، ص۲۳۲ ) 

    (63)حضرت سیدنا ابراہیم نخعی  رضی اللہ تعالی عنہ اپنی وفات کے وقت رونے لگے ، کسی نے رونے کا سبب پوچھا تو فرمایا ،''میں اللہ تعالیٰ کے قاصد کا انتظار کر رہا ہوں کہ وہ جنت کی خوش خبری سناتا ہے یا (معاذ اللہ )جہنم کی وعید سناتا ہے ؟''(احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت ومابعدہ، ،ج ۵، ص۲۳۱ )

    (64) حضرت سیدنا عامر بن عبدالقیس  رضی اللہ تعالی عنہ اپنی موت کے وقت بے قرار ہو کر رونے لگے۔جب ان سے رونے کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا،''میں موت کے ڈر یا دنیا کی محبت میں نہیں رو رہا ہوں بلکہ میں تو اس فکرمیں رو رہا ہوں کہ اب میں مر رہا ہوں تو اب گرمیوں کے روزوں میں دوپہر کی پیاس اور سردیوں کی طویل راتوں میں رات کے قیام کی لذت مجھے کہاں اور کیسے نصیب ہوگی ،ہائے یہ روح پرور اور جاں بخش لذتیں؟۔۔۔۔۔۔''یہی کہتے کہتے ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔''

(احیاء العلوم، کتاب ذکر الموت ومابعدہ، ،ج ۵، ص۲۳۲ )

    (65) حضرت سیدنا احمد بن خضرویہ  رضی اللہ تعالی عنہ کے وصال کے وقت کسی نے ان سے ایک مسئلہ پوچھا تو فرمایا،''بیٹا ! اب جواب دینے کا وقت کہاں کیونکہ میں تو اس فکر میں مبتلاء ہوں کہ جس دروازے کو میں پچانوے سال کھٹکھٹاتا رہا ،وہ اب کھلنے کو ہے لیکن