Brailvi Books

فکرِ مدینہ
73 - 166
    (60)حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل  رضی اللہ تعالی عنہ کے انتقال کے وقت جب آپ کے صاحب زادے نے طبیعت دریافت کی تو فرمایا،''جواب کا وقت نہیں ہے ، بس دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ میرا خاتمہ ایمان پر کر دے کیونکہ ابلیس لعین اپنے سر پر خاک ڈالتے ہوئے مجھ سے کہہ رہا ہے کہ ''تیرا دنیا سے ایمان سلامت لے جانا میرے لئے باعث ِ ملال ہے۔''اور میں اس سے کہہ رہا ہوں کہ'' ابھی نہیں ، جب تک ایک بھی سانس باقی ہے میں خطرے میں ہوں ، میں (تجھ سے ) سے پرامن نہیں ہوسکتا ۔''(تذکرۃ الاولیاء، ج ۱، ص ۱۹۹)

    (61)حضرتِسیدنا جنید بغدادی  رضي الله تعالي عنه نے اپنا انتقال ہونے سے پہلے سجدے میں گر کر آہ وزاری شروع کر دی ۔ جب لوگوں نے دریافت کیا،''حضرت ! آپ اس قدر عبادت گزار ہونے کے باوجود کیوں روتے ہیں ؟'' فرمایا،''اس وقت سے زیادہ میں کبھی رونے کا محتاج نہیں تھا ۔'' اور قرآن عظیم کی تلاوت میں مشغول ہوگئے ، پھر فرمایا،'' اس وقت قرآن سے زیادہ میرا کوئی ہمدرد نہیں ،میں اس وقت اپنی عمر بھر کی عبادت کو ہوا میں معلق دیکھ رہا ہوں جسے تیز وتُند ہوا کے جھونکے اِدھر اُدھر لہرا رہے ہیں ، میں نہیں جانتا کہ یہ ہوا جدائی کی ہے یا ملن کی ، دوسری طرف ملک الموت ں اور پل صراط ہے اور میں قاضی عادل (یعنی رب تعالی) کی طرف توجہ کئے حکم کا منتظر ہوں کہ نہ جانے مجھے جنت یا دوزخ میں سے کس جانب جانے کا حکم دے دیا جائے ۔ ''

(تذکرۃ الاولیاء، ،ج۲، ص ۳۰)

    (62)حضرت سیدنا محمد بن منکدر  رضی اللہ تعالی عنہ بوقتِ وفات پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ جب لوگوں نے اس کا سبب دریافت کیا توآنسوؤں سے بھرائی ہوئی آواز میں