Brailvi Books

فکرِ مدینہ
72 - 166
    (57)حضرت سَیِّدُنامعاذبن جبل  رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو رونے لگے ۔ ان سے پوچھا گیا،''آپ کو کس چیز نے رُلایا ؟'' فرمایا،''خدا ل کی قسم! میں نہ تو موت کی گھبراہٹ سے رو رہاہوں اور نہ ہی دنیا سے رخصتی کے غم میں آنسو بہارہاہوں۔بلکہ میں تو اس لئے روتا ہوں کہ میں نے حضور اکرم اسے سنا کہ ،''دو مٹھیاں ہیں ، ایک جہنم میں جائے گی اور دوسری جنت میں...۔'' اور مجھے نہیں معلوم کہ میں کون سی مٹھی میں ہوں گا۔
 (شعب الایمان ٰ ،ج۱،ص۵۰۲،رقم الحدیث ۸۴۱ )
    (58)حضرت سَیِّدُنا حذیفہ  رضی اللہ تعالی عنہ کی موت کا وقت جب قریب آیا تو رو دئیے اور شدید گھبراہٹ کا اظہار ہونے لگا ۔لوگوں نے ان سے رونے کا سبب پوچھا تو فرمایا،''میں دنیا چھوٹنے پر نہیں روتا کیونکہ موت مجھے محبوب ہے ،بلکہ میں تو اس لئے رورہا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر دنیا سے جارہاہوں یا ناراضگی میں ؟''
 (اسد الغابۃ ج۱، ص۵۷۴)
    (59)حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن رواحہ  رضی اللہ تعالی عنہ اپنی زوجہ محترمہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹے ہوئے تھے کہ اچانک رونے لگے ، ان کو روتا دیکھ کر زوجہ بھی رونے لگیں ۔ آپ نے زوجہ سے پوچھا ،''تم کیوں روتی ہو؟'' انہوں نے جواب دیا،''آپ کو روتا دیکھ کر مجھے بھی رونا آگیا۔''آپ  رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ،''مجھے تو اللہ تعالیٰ کا یہ قول یاد آگیا تھا،
    ''وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا ۔
اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں کہ جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو۔(ترجمہ کنزالایمان ،پ۱۶،مریم ۷۱)

اور میں نہیں جانتا کہ اس سے بعافیت گزر جاؤں گا یا نہیں۔''(حلیۃ الاولیاء ، جلد ۱، ص ۱۱۷)
Flag Counter