Brailvi Books

فکرِ مدینہ
71 - 166
خون ہوگیا اور پیشاب کے راستے خون آنے لگا ۔''(تذکرۃ الاولیاء ،ج۱، ص ۱۳۳ ) 

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 ( 55) نفسانی خواہش کے لئے وقت ضائع کرنے پر''فکرِ مدینہ'' ....
    حضرت سیدنا عبد اللہ بن مبارک  رضی اللہ تعالی عنہ کی توبہ کے بارے میں منقول ہے کہ ''آپ ایک عورت پر اس قدر فریفتہ ہو گئے کہ کسی پل چین ہی نہ آتا تھا ۔ایک مرتبہ سردیوں کی ایک طویل رات میں صبح تک اس کے مکان کے سامنے انتظار میں کھڑے رہے ۔حتی کہ فجر کا وقت ہوگیا تو آپ کو شدید ندامت ہوئی کہ ''میں مفت میں ایک مخلوق کی خاطر اتنا انتظار کرتا رہا،اگر میں یہ رات عبادت میں گزارتا تو اس سے لاکھ درجے اچھا تھا ۔'' چنانچہ آپ نے فوراً توبہ کی اور عبادتِ الہی ل میں مصروف ہو گئے۔(تذکرۃ الاولیاء ،ج۱، ص ۱۶۶) 

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
    ( وقتِ نزع میں'' فکر ِمدینہ''کے چند واقعات ....)
    (56)حضرت سَیِّدُنا مسلم بن بشیر  رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ  رضی اللہ تعالی عنہ بیمار ہوئے تو رونے لگے ۔ جب آپ سے رونے کا سبب دریافت کیا گیاتو فرمایا،''مجھے دنیا سے رخصتی کا غم نہیں رلا رہا بلکہ میں تو اس لئے رورہا ہوں کہ میرا سفر کٹھن اور طویل ہے جبکہ میرے پاس زادِ سفر بھی کم ہے اور میں گویا ایسے ٹیلے پر جاپہنچاہوں جس کے بعد جنت اور دوزخ کا راستہ ہے اور میں نہیں جانتا کہ مجھے کس طرف جانے کا حکم ہوگا؟''(حلیۃ الاولیاء ، ذکر اصحاب الصفۃ ، ج ۱، ص۳۵۰)
Flag Counter