| فکرِ مدینہ |
مکلف تو نہیں کہ اسے اتنی تکلیف دیں ؟'' ارشاد فرمایا،'' جو میرے اختیار میں ہے ، اس میں کوتاہی مجھے زیب نہیں دیتی کہ کہیں میدانِ محشر میں مجھ پر یہ حسرت نہ طاری ہوجائے کہ کاش! فلاں کام کر ہی لیتے تو کتنا اچھا تھا ۔''(کیمیائے سعادت ج۲،ص ۸۹۴ ) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 53) گرم پتھروں پر ''فکرِ مدینہ'' ....
حضرت سیدنا طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ،''ایک شخص ننگے پاؤں گرم ریت اور پتھروں پر چل رہا تھا ، پھر ان پر لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے کہنے لگا ،''اے مردار نفس ! تو کب تک یوں رات دن سرکشی پر آمادہ رہے گا ؟'' اتنے میں رسول اکرم اوہاں تشریف لے آئے اور اس سے پوچھا ،''اے بندہ خدا!کیوں اپنے آپ کو ہلکان کرتا ہے؟'' اس شخص نے جواب دیا ،''اس لئے کہ یہ نفس مجھ پر غالب آنا چاہتا ہے ۔''(کیمیائے سعادت ج۲،ص ۸۹۳ ) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
(54 ) پوری رات دیوار کو تھام کر''فکرِ مدینہ'' ....
حضرت سیدنا بایزید بسطامی رضی اللہ تعالی عنہ ایک رات اپنے عبادت خانہ کی چھت پر پہنچے اور دیوار کو تھام کر پوری رات خاموش کھڑے رہے جس کی وجہ سے آپ کے پیشاب میں خون آنے لگا ۔ جب لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا ،'' دوچیزوں کی وجہ سے ، ایک یہ کہ آج میں خداعزوجل کی عبادت نہ کرسکا ،دوسری یہ کہ بچپن میں مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوگیا تھا ، چنانچہ میں ان دونوں چیزوں سے اس قدر خوف زدہ تھا کہ میرا دل