Brailvi Books

فکرِ مدینہ
69 - 166
 ( 50) غلام کے جوابات سن کر''فکرِ  مدینہ'' ....
    حضرت سیدنا ابراھیم بن ادھم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک غلام خریدا اور اس کا نام دریافت کیا تو اس نے جواب دیا ،''آپ جس نام سے چاہیں پکاریں ۔'' پھر میں نے اس سے سوال کیا ،''تم کیا کھانے کے عادی ہو؟'' اس نے کہا ،''جو آپ کھلا دیں گے کھا لوں گا۔''میں نے پوچھا ،''تمہاری کوئی خواہش ہوتو بتاؤ؟'' اس نے جواب دیا ،''جو آپ کی خواہش ہو ، غلام کو ان چیزوں سے بحث نہیں ہوا کرتی ۔''یہ سن کر میں نے سوچا کہ ،''کاش! میں بھی اللہ تعالیٰ کا یونہی اطاعت گزار ہوتا تو کتنا بہتر تھا ۔'' (تذکرۃ الاولیاء ، ج۱ ، ص ۹۹ ) 

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 ( 51) حدیث بیان کرنے سے پہلے''فکرِ مدینہ'' ....
    حضرت سیدنا بشر حافی رضی اللہ تعالی عنہ نے محدث ہونے کے باوجود کبھی حدیث بیان نہیں کی اور فرمایا کرتے تھے ،'' میرے اندر حصولِ شہرت کا جذبہ ہے اور اگر یہ خامی نہ ہوتی تو میں ضرور حدیث بیان کرتا ۔'' (تذکرۃ الاولیاءج۱ ، ص ۱۰۷ ) 

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 ( 52) نفس کی بھلائی کے لئے''فکرِ مدینہ'' ....
     حضرت سیدنا علقمہ بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا کہ ،''آپ اپنے نفس کو اتنی تکلیف کیوں دیتے ہیں؟'' جواب دیا ،''اس لئے کہ مجھے اس کی بھلائی منظور ہے اور میں اسے جہنم کی تکالیف سے بچانا چاہتا ہوں ۔ ''لوگوں نے عرض کی ،'' لیکن آپ اس کے
Flag Counter