لوگوں نے ایک مرتبہ حضرت سیدنا عتبہ غلام رضی اللہ تعالی عنہ کو سخت سردی کے موسم میں صرف ایک کرتے میں دیکھا ، اس کے باوجود آپ کا جسم پسینہ سے شرابور تھا ۔ جب لوگوں نے اس کی وجہ دریافت کی تو ارشاد فرمایا ،''کچھ عرصہ پہلے میرے گھر چند مہمان آئے اور انہوں نے میرے ہمسائے کی اجازت کے بغیر اس کی دیوار سے تھوڑی سے مٹی لے لی تھی ، چنانچہ اس دن سے آج تک جب بھی میری نظر اس دیوار پر پڑتی ہے تو میں شرم کے مارے پسینہ پسینہ ہوجاتا ہوں حالانکہ میرا ہمسایہ اپنا حق معاف بھی کر چکا ہے ۔''(تذکرۃ الاولیاء ، ج۱ ، ص ۶۳ )
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 49) ''فکرِ مدینہ ''میں کہاں تک پہنچے؟ ....
حضرت سیدنا عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت سیدنا سہل بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کو حالتِ فکر میں دیکھ کر پوچھا ،''آپ (فکر ِ مدینہ میں)کہاں تک پہنچے ؟'' آپ نے جواب دیا ، ''پل ِ صراط پر ۔'' (احیاء العلوم، کتاب التفکر ، ج ۵، ص ۱۶۳ )
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )