Brailvi Books

فکرِ مدینہ
67 - 166
نے استفسار کیا،'' آپ اس طرح کیوں بیٹھے رہتے ہیں ؟'' ارشاد فرمایا،''یہ ہی میرے حق میں بہتر ہے ، کیونکہ رب تعالیٰ نے انسان کو آنکھیں اس لئے عطا فرمائیں کہ اس کی بنائی ہوئی عجیب وغریب اشیاء کو بغور دیکھے لیکن اس کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ انسان جو کچھ دیکھے نگاہِ عبرت سے دیکھے ورنہ اس کے نام ایک خطا لکھ دی جائے گی ۔'' 

(کیمیائے سعادت ج۲،ص ۸۹۴ )

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 ( 46) مسجد میں بیٹھ کر''فکرِ مدینہ''....
    حضرت سیدنا محمد بن منکدر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیدنا زیاد بن ابوزیاد رضی اللہ تعالی عنہ کو پیچھے سے دیکھا کہ وہ مسجد میں بیٹھے اپنے نفس کا محاسبہ فرمارہے تھے کہ ،''بیٹھ جا! تُوکہاں جانا چاہتا ہے ، تو کیوں جانا چاہتا ہے ؟ کیا مسجد سے بھی بہتر کوئی جگہ ہے جہاں تو جانا چاہتا ہے ؟ دیکھ تو سہی یہاں رحمتوں کی کیسی برسات ہے ؟ جبکہ تُوچاہتا ہے کہ باہر جاکر کبھی کسی کے گھر کو دیکھے ، کبھی کسی کے گھر کو ۔''

(ذم الھوٰی، الباب الثالث، ص۴۳) 

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 ( 47) عشاء تا فجر ''فکرِ مدینہ'' ....
    حضرت سیدنا ابراھیم بن ادھم رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک شخص آیا تو دیکھا کہ وہ عشاء کی نماز پڑھ چکے ہیں ، لہذا وہ ان کے انتظار میں بیٹھ گیا ۔ آپ نے ایک کمبل لپیٹا اور لیٹ گئے ، رات بھر پہلو نہ بدلا حتی کہ صبح ہوگئی اور مؤذن نے اذان دی ۔وہ جلدی جلدی نماز کے لئے اٹھے اور بغیر وضو کئے نماز ادا کی ۔ یہ بات اس شخص کو کھٹکی اور اس نے کہا ،''اللہ
Flag Counter