لاتاہوں۔پھر میں نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہوں،تو کعبۃ اللہ کو اپنے سامنے رکھتا ہوں، پل صراط کو قدموں تلے،جنت کو سیدھی جانب،جہنم کو بائیں جانب اورملک الموت ں کو اپنے پیچھے تصور کرتا ہوں۔
پھر اس نماز کو اپنی آخری نماز سمجھ کر خوف وامید کے ساتھ کھڑا ہوتا ہوں،بلند آواز سے تکبیر کہہ کر ترتیل کے ساتھ قرأت کرتا ہوں،پھر عاجزی کے ساتھ رکوع اور خشوع کے ساتھ سجود ادا کرتا ہوں۔پھر اپنی الٹی سرین پر بیٹھ کر سیدھا پیر کھڑا کر لیتا ہوں اور ساری نماز میں اخلاص کا خوب خیال رکھتا ہوں۔پھر(بھی) میں نہیں جانتا کہ یہ نماز بارگاہ ِالہی میں مقبول ہوتی ہے یا نہیں؟''.( احیاء العلوم ، کتاب اسرار الصلوۃ ومہماتھا،ج ۱ ، ص۲۰۶ )
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )