Brailvi Books

فکرِ مدینہ
66 - 166
لاتاہوں۔پھر میں نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہوں،تو کعبۃ اللہ کو اپنے سامنے رکھتا ہوں، پل صراط کو قدموں تلے،جنت کو سیدھی جانب،جہنم کو بائیں جانب اورملک الموت ں کو اپنے پیچھے تصور کرتا ہوں۔ 

    پھر اس نماز کو اپنی آخری نماز سمجھ کر خوف وامید کے ساتھ کھڑا ہوتا ہوں،بلند آواز سے تکبیر کہہ کر ترتیل کے ساتھ قرأت کرتا ہوں،پھر عاجزی کے ساتھ رکوع اور خشوع کے ساتھ سجود ادا کرتا ہوں۔پھر اپنی الٹی سرین پر بیٹھ کر سیدھا پیر کھڑا کر لیتا ہوں اور ساری نماز میں اخلاص کا خوب خیال رکھتا ہوں۔پھر(بھی) میں نہیں جانتا کہ یہ نماز بارگاہ ِالہی میں مقبول ہوتی ہے یا نہیں؟''.( احیاء العلوم ، کتاب اسرار الصلوۃ ومہماتھا،ج ۱ ، ص۲۰۶ )

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 ( 44) نماز کی ادائیگی کے بعد''فکرِ مدینہ'' ....
    حضرت سیدنا ابراہیم بن ادھم رضی اللہ تعالی عنہ کا معمول تھا کہ نماز ادا کرنے کے بعد اپنا چہرہ چھپا کر فکر ِمدینہ کرتے اور فرماتے ،''مجھے یہ دھڑکا لگارہتا ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ میری نماز کو میرے منہ پر نہ دے مارے ۔(یعنی میری نماز قبول نہ فرمائے )''(تذکرۃ الاولیاء، ج۱، ص ۹۶ ) 

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
 ( 45) نماز ِ فجر تاعصر''فکرِ مدینہ''....
    حضرت سیدنا احمد بن زرین رضی اللہ تعالی عنہ کا معمول تھا کہ روزانہ صبح کی نماز سے لے کر عصر تک مسجد میں بیٹھے رہتے اور کسی کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے ۔ ایک مرتبہ لوگوں
Flag Counter