| فکرِ مدینہ |
تیری حمد کروں ؟ لہذا! مجبوراً حیاء کو ترک کر کے تیرے حضور حاضر ہو رہا ہوں ۔''پھر آپ نماز کی نیت باندھ لیتے ۔ اکثر اللہ تعالیٰ سے یہ بھی عرض کرتے ،''آج مجھے جن مصائب کا سامنا ہے ، وہ تیرے سامنے عرض کردیتا ہوں ، لیکن کل میدانِ محشر میں میری بداعمالیوں کی وجہ سے جو اذیت پہنچے گی ،اس کا اظہار کس سے کروں؟ لہذا ! اے رب العالمین ! مجھے عذاب کی ندامت سے چھٹکارا عطا فرما دے ۔''(تذکرۃ الاولیاء ،ص۱۱۹) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
( 42) پہلی صف چھوٹ جانے پر''فکرِ مدینہ'' ....
امام سیدنا محمد غزالی رضی اللہ تعالی عنہ کیمیائے سعادت میں نقل فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ تیس سال تک ہمیشہ نماز کے لئے پہلی صف میں کھڑے ہوتے تھے ۔ ایک دن انہیں کسی وجہ سے تاخیر ہوگئی تو آخری صف میں جگہ ملی ۔ ان کے نفس نے کہا ،''لوگ کیا کہیں گے کہ یہ آج اتنی دیرسے آیا ہے ؟'' انہوں نے (دل میں)کہا،'' افسوس! میری تیس سال کی نمازیں ضائع ہوگئیں کہ میں محض لوگوں کے لئے پہلی صف میں کھڑا ہوتا رہا ۔'' (ج ۲ ، ص ۸۷۶ ) (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )
(43) نماز پڑھنے کے دوران''فکرِ مدینہ'' ....
حضرت حاتم اَصم رضی اللہ تعالی عنہ سے ان کی نماز کا حال دریافت کیا گیا ،تو آپ نے فرمایا، ''جب نماز کا وقت ہوتاہے، تو اچھی طرح وضو کرتا ہوں،پھر اس مقام پر آتا ہوں ،جہاں نماز ادا کرنی ہے،وہاں بیٹھ کر تمام اعضاء کو جمع کرتا ہوں یعنی انہیں حالتِ اطمئنان میں